تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگوں کا آغاز اچانک نہیں ہو جاتا بلکہ یہ جنگیں علاقائی تنازعات کے ایک سلسلے کے طور پر پروان چڑھتی ہیں۔ پہلی عالمی جنگ بھی بلقان میں ایک محدود تنازع سے شروع ہوئی تھی،جس کےتباہ کُن نتائج اوردردوکرب نے انسانوں کے خیالات اور رویوں تک کو تبدیل کر نے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔جبکہ آج سے قریباً80 سال قبل ہوچکی دوسری عالمی جنگ، جس میں ایٹم بم بھی استعمال کیا گیا ،میں لاکھوں لوگوں کی کرب ناک ہلاکت کی دردناک داستان سُن کرآج بھی انسان کے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیںاور دل پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ اب عصرِ حاضر کے جدید دور میں مغربی ایشیا میں جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے ،اُس نے ایک بار پھر تاریخ کو ایک اہم موڑ پر کھڑا کردیا ہے،جس سے تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔
گویامغربی ایشیائی خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی فوجی حرکیات، میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہروں اور سپر پاورز کی کھلی مداخلت نے صورتحال کو انتہائی تشویش بناکر رکھ دیا ہے،جس میں اگر خلیجی ممالک براہ راست شامل ہوجاتے ہیں ، علاقائی تنظیمیں فعال فوجی کردار ادا کرتی ہیں اور روس، چین یا یورپی یونین جیسی بڑی طاقتیں کھلے عام لڑائی میں شامل ہوجاتی ہیں تو صورتحال عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی طےہے کہ جدید دنیا ایک دوسرے پر منحصررہنے کی پابند ہے، توانائی منڈیاں، عالمی تجارت، مالیاتی نیٹ ورک اور کثیر جہتی ادارے کسی بھی عالمی جنگ کو انتہائی مہنگا بنا دیتے ہیں۔ اس لئے زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جہاں تیسری عالمی جنگ کے امکان کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے، وہیں سپر پاورز ،براہ ِراست عالمی تنازعے سے بچنے کی حتی المکان کوششیں کرتی رہیں گی۔چنانچہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ طاقت کے عالمی توازن کا امتحان بن چکا ہے۔
بین الاقوامی سفارت کاری کا کردار کہیں بھی نظر نہیں آ رہا ہے جبکہ فوجی حکمتِ عملی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔خطے میں فضائی حدود کی بندش، بڑی ایئر لائنز کی پروازوں کی منسوخی اور سمندری راستوں کے لئےبڑھتے ہوئے خطرات، — یہ تمام اشارے بڑے پیمانے پر فوجی ہنگامہ آرائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اگر تنازع کی جڑ غور کریں تو ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے نظریاتی اور تزویراتی دشمنی چلی آ رہی ہے۔ جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی پراکسی گروپس کی حمایت طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز رہے ہیں، جبکہ امریکہ کھلے عام اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے اور مشترکہ فوجی کارروائیوں میں شامل رہتا ہے،جس کے نتیجے میں یہ جنگ براہِ راست ایک سپر پاور بمقابلہ ایک علاقائی طاقت کے درمیان چل رہی ہے۔ ڈرون، سائبر حملے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور سمندری ناکہ بندی — جدید جنگ کے تمام آلات — بیک وقت استعمال ہورہے ہیں۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو توانائی کی فراہمی، عالمی تجارتی راستے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ظاہر ہے کہ مختلف معاملات میں مغربی ایشیا ہندوستان کے لیے صرف ایک جیو پولٹیکل خطہ نہیں ہے بلکہ توانائی، ہندوستانی تارکین وطن اور تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے۔
اس وقت بھی خلیجی ممالک میں لاکھوں ہندوستانی ملازم ہیں، اگر وہاں مکمل پیمانے پر جنگ چھڑ جاتی ہے تو انخلاء کی کارروائیاں بھی انتہائی مشکل بن سکتی ہیں جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور دوسرے کئی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ چوکس ہے اور مختلف ممالک میں مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ملک کے حساس علاقوں بالخصوص وادیٔ کشمیر میں بڑھتی ہوئی پابندیوںسے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی واقعات سے مقامی جذبات متاثر ہورہے ہیں۔یہاں کی یو ٹی انتظامیہ کے لئے یہاں کا امن و امان کو برقرار رکھنا، کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ یا سیاسی شورش پر قابو پانا، وقت کی اشد ضرورت ہے۔المختصر مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال بے شک دھماکہ خیز ہے جس کے باعث دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،تاہم اس دھماکہ خیزصورت حال کو تیسری عالمی جنگ کےآغاز کا نام دینا قبل از وقت ہوگا۔