عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں جاری بحران اور ایران کے خلاف اسرائیل و امریکہ کی مشترکہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن پسند ممالک اور اقوام متحدہ سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ مسائل افہام و تفہیم اور پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں، اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بات چیت ہی دیرپا امن کی بنیاد بنتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور ممالک سمیت کئی ریاستوں نے بھی اس بحران کو سفارتی سطح پر حل کرنے پر زور دیا ہے، جو ایک دانشمندانہ اور قابلِ ترجیح راستہ ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے صہیونی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے، اور اس سے پہلے صہیونی طاقتوں کی سازشوں سے خطے کے مختلف اسلامی ممالک، جن میں فلسطین، عراق، شام، افغانستان، یمن اور لبنان وغیرہ شامل ہیں، عدم استحکام اور تباہی کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی پالیسی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اُمتِ مسلمہ سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں میں یکجہتی ہو تو کوئی بھی طاقت کسی مسلم ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔