درآمد پر انحصار کم کرنے کیلئے ایک طویل مدتی حکمت عملی :سرکار
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت نے مقامی سطح پر اون اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے چار اعلیٰ غیر ملکی نسلوں کی بھیڑ اور بکریاں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق روس سے رومانوف نسل، فن لینڈ سے بھیڑیں، جنوبی افریقہ سے بوئر نسل کی بکریاں اور سوئٹزرلینڈ سے سوئس الپائن نسل کی بکریاں منگوائی جائیں گی۔بوئر اور سوئس الپائن بکریوں کی درآمد آخری مرحلے میںحکام کا کہنا ہے کہ بوئر اور سوئس الپائن بکریوں کی درآمد کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور رواں سال کے دوران اسے مکمل کر لیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی تقریبا 1400 غیر ملکی نسلوں کے جانور حاصل کیے جا چکے ہیں۔
اعلی جراثیمی مادہ (جرم پلازم) کے ذریعے بہتری کا منصوبہمحکمہ شیپ ہسبنڈری کے مطابق بہتر نسل کے جراثیمی مادے کی درآمد کا مقصد افزائش نسل کی رفتار، گوشت کی پیداوار، تولیدی صلاحیت اور مجموعی ریوڑ کی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس اقدام کو کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور بیرونی ریاستوں سے مٹن کی درآمد پر انحصار کم کرنے کی طویل مدتی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔HADP کے تحت ڈورپر اور ٹیکسل بھیڑوں کی درآمدحکام نے بتایا کہ ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (HADP) کے تحت “سیلف سسٹیننس اِن مٹن پروڈکشن” پروجیکٹ کے تحت 202425 کے دوران جموں ڈویژن کے لیے 450 ڈورپر اور کشمیر ڈویژن کے لیے 450 ٹیکسل بھیڑیں درآمد کی گئیں۔ان کے علاوہ میرینو، ڈورپر اور ٹیکسل نسل کی بھیڑیں آسٹریلیا سے بھی منگوائی گئی ہیں۔ یہ تمام جانور سرکاری افزائشی فارموں میں رکھے گئے ہیں تاکہ ان کی افزائش کے بعد ان کی نسل کسانوں میں مرحلہ وار تقسیم کی جا سکے۔ توقع ہے کہ 202627 کی تیسری سہ ماہی سے تقسیم کا عمل شروع ہوگا۔دودھ اور دیگر شعبوں میں بھی ترقیاتی اقداماتحکام کے مطابق دودھ، پولٹری، مویشی، اون، چارہ اور فیڈ کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک جامع روزگار پر مبنی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کاروباری مواقع کی فراہمی اور دیہی علاقوں میں منڈیوں سے روابط مضبوط بنانا شامل ہے۔دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے 40 اعلی جینیاتی صلاحیت کے حامل بیل درآمد کیے گئے ہیں جبکہ 351 سیٹلائٹ ہیفر ریئرنگ یونٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔