عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// غیر معمولی گرم موسمِ سرما نے کشمیر کی سرمائی سیاحت کے مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ابھرتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کیے جائیں۔وادی میں گزشتہ ماہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے محکمہ موسمیات (میٹ) نے سرینگر اور گلمرگ میں اب تک کا سب سے زیادہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا، جو موسمیاتی تبدیلی کی ایک تشویشناک علامت قرار دی جا رہی ہے۔کشمیر کے اہم سرمائی سیاحتی مقام گلمرگ میں حال ہی میں منعقدہ کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے دوران گرمی کی لہر جیسے حالات کے باعث برف تیزی سے پگھلنے لگی۔ حکام کو آخری لمحات میں مقابلوں کو بلند مقامات پر منتقل کرنے اور کچھ ایونٹس کو صبح کے اوقات میں منعقد کرنے جیسے اقدامات کرنا پڑے تاکہ برف کو محفوظ رکھا جا سکے۔سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بدلتا ہوا موسمی رجحان اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ زمینی حقیقت بن چکا ہے، جو براہِ راست روزگار اور معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔
ٹریول بزنس سے وابستہ فاروق احمد نے کہا کہ صورتحال فوری پالیسی مداخلت کی متقاضی ہے۔ سردیوں کے دوران ہم بڑے پیمانے پر سرمائی سیاحت اور اسپورٹس سرگرمیوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ بدلتے موسمی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے اب ہمیں اسی کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ عموماً ہمارا سیاحتی سیزن مارچ تک جاری رہتا ہے، مگر برف کے تیزی سے پگھلنے کی موجودہ رفتار تشویشناک ہے۔ یہ ہم سب کے لیے فکر کا مقام ہے۔یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر بھی زیر غور آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ خطاب میں خطے میں سرمائی کھیلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مصنوعی برف سازی کی طرف پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’وقت آ گیا ہے کہ ہم مصنوعی برف پیدا کرنے کے نظام کی طرف بڑھیں۔ میں پانی اور بجلی کے استعمال سے متعلق خدشات کو سمجھتا ہوں، لیکن اگر ہم نے یہ انفراسٹرکچر تیار نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب گلمرگ میں اسکیئنگ بھی ممکن نہیں رہے گی، جو انتہائی افسوسناک ہوگا۔‘‘
تاہم صنعت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ بحث صرف مصنوعی برف یا ہنگامی اقدامات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر وہ پائیدار سیاحت کو منصوبہ بندی کا مرکزی نکتہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔سری نگر سے تعلق رکھنے والے ہوٹل مالک محمد شعیب نے ماحول دوست ترقی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’توجہ ایکو ٹورزم پر ہونی چاہیے۔ سیاحت کے فروغ اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘ماہرین کے مطابق برفانی کھیلوں، اسکیئنگ اور موسمی مہمان نوازی پر مبنی کشمیر کی سرمائی معیشت موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں ضرورت گھبراہٹ کی نہیں بلکہ موافقت، جدت اور پائیدار منصوبہ بندی کی ہے تاکہ وادی کی سرمائی سیاحت کو بدلتے موسم کے مطابق ڈھالا جا سکے۔