وسیم فاروق وانی
کہانی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔مگر میں ختم ہوگیا تھا۔یوں لگا جیسے کسی نے قلم روکا، صفحہ پلٹا اور میرا وجود کسی حاشیے میں رکھ دیا۔
میں وہ کردار تھا جس کے گرد کہانی گھومتی تھی۔ میری خواہشیں، میری الجھنیں، میری خاموشیاں ، سب کچھ اس کائنات کے متن میں درج تھیں۔ مگر ایک دن، مصنف نے شاید فیصلہ کرلیا کہ اب میرا وقت پورا ہوچکا ہے۔
اب کہانی آگے بڑھ رہی ہے۔نئے کردار، نئی باتیں، نئی سمتیں۔
اور میں۔۔۔۔۔میں ایک بھولی ہوئی سطر کی طرح صفحے سے مٹ چکا ہوں۔
میں اکثر سوچتا ہوں، شاید میں نے کردار کا حق ادا نہیں کیا۔شاید میری خودی بہت بڑھ گئی تھی۔میں اپنے مکالمے خود لکھنے لگا تھا۔میں اپنے راستے خود بنانے لگا تھا۔شاید اسی لئے مصنف نے مجھے کہانی سے نکال دیا۔
اب میں ایک عجب خلاء میں ہوں ،جہاں نہ روشنی ہے نہ اندھیرا،بس ایک احساس کہ کہانی اب میرے بغیر ہے۔
میں کہانی کو دیکھتا ہوں، وہ رواں ہے، چمکتی ہے، سانس لیتی ہے اور مصنف… وہ اب کسی اور کردار کے لبوں سے تخلیق کر رہا ہے۔
کبھی کبھی وہ ٹھہرتا ہے۔قلم کی نوک تھم جاتی ہے۔میں محسوس کرتا ہوں ۔۔۔۔شاید اسے میری یاد آگئی ہے، مگر وہ پھر لکھنے لگتا ہے۔
تب مجھے احساس ہوتاہے ۔۔۔۔میں کہانی نہیں تھا، میں مصنف کا خواب تھا۔جب خواب بوجھ بن جائے، وہ خواب دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔
اب میں اس حاشیے پر بیٹھا ہوں جہاں کہانی سے خارج ہونے والے کردار اکٹھے ہوتے ہیں۔ہم سب وہ ہیں جنہیں کہانی نے نہیں،کہانی کے خالق نے چھوڑ دیا۔
ہم باتیں نہیں کرتے، بس سنتے ہیں ،کہ کہانی کیسے آگے بڑھتی ہےاور خالق کس شدت سے لکھتا چلا جاتا ہے۔
میں اب اپنی کہانی خود لکھ رہا ہوں،کسی صفحے پر نہیں ،خلاء میں۔ایسی کہانی، جس میں خالق نہیں صرف ایک گمشدہ کردار ہے،جو آج بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔کہ کہانی نے اسے چھوڑا، یا اس نے کہانی کو۔
شاید خالق ہر کہانی میں صرف اتنا ہی دکھاتا ہے جتنا کوئی کردار سمجھ سکتا ہے۔جب کردار خود کو خالق کے برابر سمجھنے لگے تو کہانی اسے چھوڑ دیتی ہے۔میں اب سمجھ گیا ہوں، میرا اخراج سزا نہیں تھی۔۔۔۔۔مُکتی تھی۔
���
سرینگر، کشمیر، موبائل نمبر؛8803003787، ای میل؛[email protected]