لوگ اِسے دیکھتے ہی رو جائیں
مجھ کو ایسی کوئی نشانی دو
آرزو پر نکھار آ جائے
مجھ کو اِس دل کی باغبانی دو
میں بھی ہُوں زندگی میں حاجت مند
میرے دل کو بھی شاد مانی دو
دیکھنے والے خود بھی بہہ جائیں
میرے اشکوں کو وہ روانی دو
پڑھنے والوں کو رشک ہو مُجھ پر
میرے لفظوں کو وہ معافی دو
تم کو ہی چاہتا ہے پیارے ہتاشؔ
کب کہا اُس نے اپنا ثانی دو
پیارے ہتاش
درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
پوچھنا کیا ہے کیوں وہ آیا تھا
باغ میں تتلیوں نے لایا تھا
رات شعلہ تھی آب پر چمکی
آنکھ میں دیر تک اُجالا تھا
میں نے شیشے کو چُھو لیا تھا بس
ڈر گیا کیوں کوئی پرایا تھا
مسکراتے ہوئے وہ ٹِھٹکی تھی
جانے کس غم کا دل پہ سایا تھا
شاطروں سے تھی جنگ پھر بھی میں
سادگی کو بچا کے لایا تھا
مشتاق مہدی
مدینہ کالونی۔مَلہ باغ سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053
شب کی آغوش میں مہتاب نہیں دیکھتے ہیں
آنکھ والے ہیں مگر خواب نہیں دیکھتے ہیں
ان سے پوچھو کبھی محرومئی وحشت کی گھُٹن
زخم جو کھُلنے کے اسباب نہیں دیکھتے ہیں
تُو کہ اک عالمِ عجلت میں بسا جا کے کہیں
تیری دُنیا ترے بیتاب نہیں دیکھتے ہیں
غم اُترتے ہیں صحیفوں کی طرح غزلوں میں
پھول ہو زرد یا شاداب نہیں دیکھتے ہیں
تیرتے رہتے ہیں دریائے سخن میں لیکن
کونُسی شے ہے تہہ آب نہیں دیکھتے ہیں
دُکھ کی تدبیر بتاتے ہیں چلے جاتے ہیں
راستے اپنے شفایاب نہیں دیکھتے ہیں
حرمت ِ ہجر میں کرتے ہیں شب و روز سفر
کوئی طوفاں ہو یا گرداب نہیں دیکھتے ہیں
تیر چُبھتا ہی رہے جسم تڑپتا ہی رہے
بغض میں اور کچھ احباب نہیں دیکھتے ہیں
زیر ہونے کا وظیفہ ہی بہت ہے محمو ؔد
عشق میں نام یا القاب نہیں دیکھتے ہیں
محمد محمود
نجدون نیپورہ
اننت ناگ اسلام آباد کشمیر
مجھے وہ زندگانی چاہیے تھی
وہی پھر سے جوانی چاہیے تھی
ادھوری رہ گئی جو درمیاں میں
مکمل وہ کہانی چاہیے تھی
نئے رشتوں سے گھبراتا ہے یہ دل
وہی اُلفت پرانی چاہیے تھی
کہاں ٹھہروں، کہاں منزل بناؤں؟
ندی جیسی روانی چاہیے تھی
مٹا دی کیوں میرے خطوں کی تحریر؟
تمہیں میری نشانی چاہیے تھی
غموں سے چور کیوں ہے آج یہ دل
اسے تو شادمانی چاہیے تھی
فنا ہونے کا جس میں ڈر نہیں ہو
حیاتِ جاودانی چاہیے تھی
نصرت جان
جڈیبل، سرینگر ، کشمیر
پیش آئے ہیں مرے اپنے ستم گر کی طرح
ہاتھ پھولوں کے بھی اب لگتے ہیں خنجر کی طرح
کس نے رکھے ہیں کُھلے یوں در و دیوار مرے
جلد بازی میں کسی چھوڑے ہوئے گھر کی طرح
شام ڈھلتے ہی یہ تھا کون جو میرے اندر
پھڑ پھڑاتا ہی رہا ٹوٹے ہوئے پُر کی طرح
آخرش بول اُٹھیں!مورتیں بھی میرے خلاف
اپنے ہاتھوں سے تراشی تھیں جو آزر کی طرح
پہلے تو پیار میں دھوکے سے نکالا گیا دل
پھر ہواؤں میں اُچھالا گیا کنکر کی طرح
میری کم گوئی کا کچھ اور نہ مفہوم نکال
یوں ہی چپ چاپ ہوں، خاموش سمندر کی طرح
سوزشِ درد سے آیا ہے کلیجہ منہ کو
تجھ کو لگتا ہے کہ بے حسں ہوں میں پتھر کی طرح
رت جگے راس تجھے آنے لگے ہیں ،راہیؔ
جاگتا ہے مرے آسیب زدہ در کی طرح
عاشق راہیؔ
اکنگام اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005630105
آج پھر وہ گُل ہے مسکرایا
آج ہی اس نے شادابیٔ رنگ دکھایا
خزاں کا ستم تو ہے بس چند روز کا
آج پھر اس بہار کا پیغام ہے آیا
مالی تُو خوشی کے نغمے سے لطف اندوز ہو جا
آج ہی ہم نے پھولوں پہ شبنم پایا
بلبل بھی ہے شادمان اس کی آزادی سے
آج ہی بلبل نے نغمہ بہار ہے گایا
قادریؔ جا کے دیکھ چمن چمن
ہر سو ہے موسم شادابی چھایا
فاروق احمد قادری
کوٹی ڈوڈہ ،جموں
حاصِلِ عُمْرِ گُریزاں خستہ خواری ہائے ہائے
ہے حیاتِ غم رسیدہ آہ و زاری ہائے ہائے
ایک وہ تصویر جو دیوار سے اُتری نہیں
پھر بلائے جاں مرے سر پر اُتاری ہائے ہائے
سوزشِ پنہاں غِلافوں میں رہی ساری عمر
پڑ گیا ناسُور ، غم کی پردہ داری ہائے ہائے
چارہ سازی حالِ دل کی کیا سِوائے بے خُودی
حُکمِ یزداں اجتنابِ بادہ خواری ہائے ہائے
خُود فراموشی میں غارت ہوگئے دونوں جہاں
ہوں پشیماں باعثِ غفلت شعاری ہائے ہائے
کاٹ کر رکھی تھی میں نے اپنے اس دل کی زبان
کر گئی رُسوائے عالم داغداری ہائے ہائے
دن گزر جاتا تھا میرا غم شُماری میں خلِشؔ
بن گئی اب تو گِراں سر شب گُزاری ہائے ہائے
سجاد سُلیمان خلشؔ
اسلام آباد کشمیر
موبائل نمبر؛7889506582