سجاد آہنگر
سرینگر// بڑھتی ہوئی بے وزگاری اور مسابقتی امتحانات کے بڑھتے دباؤ نے کشمیر کے طول و عرض میں نجی ریڈنگ رومز (مطالعہ گاہوں) کو طلبہ کی زندگی کا لازمی جز بنا دیا ہے۔ دہلی کے راجندر نگر کی طرز پر بننے والی یہ سہولتیں آج وادی کے ہر قصبے اور گلی کوچے میں پھیل چکی ہیں، جہاں لاکھوں نوجوان میڈیکل (NEET)، انجینئرنگ (JEE) اور سول سروسز جیسے خوابوں کو پنکھ لگانے آتے ہیں۔ تاہم، ان عمارتوںمیںیہ سہولتیں نہ تو جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی ہیں، نہ ہی خواتین کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور مساوی ماحول فراہم کرتی ہیں۔یہ مراکز موسم سرما کی سختیوں میں طلبہ کی بنیادی ضروریات پور ی نہیںکر پاتی ہیں۔شمالی کشمیر کے ایک قصبے میں NEET کی تیاری کرنے والے رئیس احمد کی کہانی ان ہزاروں نوجوانوں کی داستان بیان کرتی ہے جن کے خواب عمارتوں کی سیڑھیوں سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں۔ رئیس نے بتایا”کچھ عرصہ پہلے ایک حادثے کی وجہ سے مجھے دو ماہ ویل چیئر پر چلنا پڑا،میں تین ہفتوں بعد پڑھنے کے قابل ہو گیا تھا، لیکن ہمارا اسٹڈی روم دوسری منزل پر ہے۔جہاں ویل چیئر پر جانا ناممکن تھا۔ میں نے گھر میں پڑھنے کی کوشش کی، لیکن وہاں وہ ماحول نہیں ملتا جو ریڈنگ روم میں ہے۔”یہ صرف رئیس کا مسئلہ نہیں ہے، شمالی کشمیر کے متعدد ریڈنگ رومز کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پہلی منزل پر نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی عمارت میں لفٹ یا ویل چیئر ریمپ جیسی سہولت موجود ہے۔کنزر ٹنگمرگ کے ایک ریڈنگ روم کے مالک نے بتایا “جب میں نے یہ سہولت شروع کی تھی، اس عمارت کی سیڑھیاں اتنی تنگ اور تاریک تھیں کہ ایک عام انسان کا اوپر جانا بھی مشکل تھا، معذور افراد کا تو سوچنا بھی فضول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عمارتیں اس مقصد کے لیے بنی ہی نہیں تھیں۔ ہم میں سے زیادہ تر مالکان پرانی رہائشی عمارتیں کرائے پر لے کر انہیں ریڈنگ رومز میں تبدیل کر دیتے ہیں، جہاں ڈھانچہ تبدیل کرنا قانونی اور مالی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔”جہاں ایک طرف جسمانی معذوری عمارت میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ ہے، وہیں خواتین طالبات کو اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک اور جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ بانڈی پورہ میں واقع ایک ریڈنگ روم کی طالبہ نے بتایا، “یہ جگہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میں صبح سویرے گھر سے ٹفن لے کر آتی ہوں اور شام کو واپس جاتی ہوں۔ لیکن میری خواہش ہے کہ یہ سہولتیں لڑکوں کی طرح رات گئے تک ہمارے لیے بھی ہوں۔”کپوارہ کی رہائشی صوفیا نے ایک اور تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا، “میں نے ایک ریڈنگ روم جوائن کیا تو دیکھا کہ وہاں صرف پانچ لڑکیاں ہیں اور درجنوں لڑکے۔ ماحول بہت عجیب سا تھا، جس کی وجہ سے میں نے کچھ دنوں بعد ہی وہاں جانا چھوڑ دیا۔” قصبے میں 2 ریڈنگ رومز چلانے والے ایک تاجر بتایا’میرے دونوں ریڈنگ رومز میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ ہم سب کے لیے یکساں مواقع دیتے ہیں۔ اگر وہ پہلے آتی ہیں تو ہم انہیں ترجیح دیتے ہیں۔” تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں نہیں رکھ سکتے۔ہندوارہ قصبے کے ایک طالب علم نے ان ریڈنگ رومزکی فیس اور بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا، “مجھ سے ماہانہ ایک ہزار روپے لیے جاتے ہیں، اور گھر سے آنے جانے کا کرایہ الگ۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ ہے۔ سردیوں میں ہم یہاں ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں۔ نہ ہیٹر کا انتظام ہے اور نہ واش رومز میں گرم پانی۔”اس معاشی پہلو پر اسی قصبے کے ایک ریڈنگ روم مالک نے جواب دیا، “میں خود ایک طالب علم رہ چکا ہوں، لیکن مجھے بتائیں کہ ایک ہزار روپے کیسے زیادہ ہیں؟ میں اس عمارت کا ساٹھ ہزار روپے ماہانہ کرایہ دیتا ہوں، جس میں سو بچوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ بجلی اور پانی کا بل الگ ہے۔ جب سو بچے بھی پورے نہیں ہوتے، تو بتائیے میرا خرچہ کیسے پورا ہو؟”۔ کنزر ٹنگمرگ کے مالک نے ایک امید بھرے لہجے میں کہا، “میں ان تمام مسائل کو سمجھتا ہوں اور شکایت کرنے والوں کو حق بجانب سمجھتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ سرکار اس شعبے میں دلچسپی لے۔ وہ عوام دوست عمارتیں تعمیر کرے، جہاں بچے بغیر کسی تفریق کے من لگا کر پڑھ سکیں۔”ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی ریڈنگ رومز کے لیے ایک رجسٹریشن اور لائسنسنگ نظام متعارف کرائے، جس میں معذور افراد کے لیے رسائی اور خواتین کے لیے محفوظ اور علیحدہ جگہوں کا تعین لازمی قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی، طلبہ کی سماجی و اقتصادی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈی والے سرکاری ریڈنگ رومز کا جال بچھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔