بشیر اؔطہر
“پاپا پاپا! وہ دیکھو پولیس ہمارے گھر کی طرف آ رہی ہے” رگھوناتھ کے بیٹے شنبھو نے اپنے پاپا سے کہا۔
“بیٹے، تم اندر چلو، میں دیکھتا ہوں کہ کیا مسئلہ ہے۔”
رگھوناتھ چندرپور گاؤں کا سب سے غریب آدمی تھا۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ رہ رہا تھا جس کی عمر ابھی چھ سات سال کی تھی۔ دو سال پہلے ان کی بیوی کا انتقال ہوا تھا۔ وہ ایمانداری اور اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ اگرچہ وہ غریب ہی تھا، پر غریبوں کے ساتھ ان کی ہمدردی کافی تھی۔ خود فاقہ کشی کرتے تھے مگر دوسروں کو کھلایا کرتے تھے۔ اس سے ان کو بڑا سکون ملتا تھا۔ گاؤں میں جو بھی امیر تھے، وہ ان کی اس ہمدردی اور ایمانداری سے جلتے تھے۔ ان کا ایک دور کا رشتہ دار بھی اسی گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ روز رگھوناتھ کے خلاف بکتا رہتا تھا اور اپنی زبان گندی رکھتا تھا۔
گاؤں میں ایک امیر شخص رام نِواس بھی رہتا تھا۔ وہ اکثر اپنا وقت سرکاری دفاتر میں گزار کر سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کر گاؤں کے لوگوں کے کام کا نپٹارا کرتا تھا۔ وہ یہ سب کام اس لیئے کرتا تھا کہ اگر وہ سرکاری اہلکاروں کو ایک ہزار روپے دے کر کسی کا کام نکلواتا تھا تو ان سے پانچ ہزار مانگتا تھا اور چار ہزار روپے اپنی جیب میں بھرتا تھا۔ تحصیلدار سے لے کر تھانے دار تک سب اس کے اشاروں پر ناچ رہے تھے، مگر رگھوناتھ کو ان دفاتر میں نہ کوئی کام ہوتا تھا نہ ہی وہ ان کے اشاروں پر چل رہا تھا، اسی لیئے وہ ان سے جلتا تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ رگھوناتھ کا وہ رشتہ دار پرانی زمین، جو رگوناتھ کے پاس تھی، یہ کہہ کر ہڑپ کرنا چاہتا تھا کہ ہمارے آباء و اجداد نے اس زمین کا بٹوارہ صحیح طریقے سے نہیں کیا تھا۔
“ارے رگھوناتھ! آپ کے پاس دو کنال زمین ہے جبکہ میرے پاس صرف ایک کنال… یہ کیسے ممکن ہے؟” انہوں نے کہا۔
“وہ اس لیئےکہ آپ کے باپ نے اسی زمین میں سے ایک کنال زمین گاؤں کے زمیندار کو فروخت کی تھی” رگھوناتھ نے کہا۔
“یعنی اب آپ میرے والد کو دوش دے رہے ہو؟ تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہو۔ میں یہ معاملہ عدالت کے پاس لے کر جاؤں گا۔”
“ہاں لے جاؤ، آپ کو کس نے روکا؟ مگر یاد رکھنا کہ تمہیں وہاں بھی ہار ہی ملے گی۔”
کل شام ان دونوں کی اسی بات پر تکرار ہوئی تھی۔ جب یہ معاملہ رام نِواس نے سنا تو وہ پھولے نہ سمایا اور سوچنے لگا کہ رگھوناتھ کے خلاف تو ایک ہتھیار ملا۔ انہوں نے ان کے رشتے دار کو گھر بلایا اور رگھوناتھ کے خلاف کان بھرے اور پولیس کیس کرنے کو کہا۔ ان کا رشتہ دار اس پر آمادہ ہو گیا اور انہوں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔
جب پولیس گھر آئی تو انہوں نے بغیر کچھ کہے رگھوناتھ پر فقرے کسے. “تم غریب تو کبھی کبھی اپنی اوقات بھول جاتے ہو۔ تم نے اپنے رشتہ دار کو زخم دئیے ہیں، اس لیئے ضربِ شدید کے تحت تمہارے خلاف کیس درج ہوا ہے” پولیس آفیسر نے بڑے طیش میں کہا۔
“نہیں صاحب، آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی” رگھوناتھ نے جواب میں کہا۔
مگر ان کو رشوت نے اتنا اندھا کیا تھا کہ اپنی باپ کی عمر کے آدمی کو اس طرح دھکا مارا کہ وہ گر پڑا۔ جب ان کے اس چھوٹے بیٹے نے یہ سب دیکھا تو وہ فوراً اندر سے باہر آیا اور اپنے باپ کو اٹھانے کی کوشش کی، مگر پولیس آفیسر نے اسے ایسا کرنے سے روکا”مرنے دو اس بوڑھے کو، ڈونگی کہیں کا!”
“صاحب، میں ڈونگی نہیں ہوں، یہ ہمارا آپس کا مسئلہ ہے” وہ آہستہ سے اٹھا اور اپنے لباس کو جھاڑا۔
“حوالدار، اس کو گرفتار کرو!”
“مجھے کس جرم میں گرفتار کیا جا رہا ہے؟ کس کے کہنے پر ایسا کر رہے ہو؟”
“آپ کون ہوتے ہو ہم سے سوال کرنے والے؟”
پولیس نے انہیں گاڑی میں بٹھایا اور اپنے ساتھ تھانے لے چلے۔ تین روز گزر چکے تھے مگر کسی نے بھی ان کی خبر تک نہیں لی… کون لیتا؟
چوتھے روز تھانے میں ایک بڑا آفیسر آیا اور حوالات کا بھی جائزہ لیا۔
“کس جرم میں بند ہو؟” انہوں نے رگھوناتھ سے پوچھا۔
“صاحب، بے گناہی کے جرم میں۔”
“گما پھرا کر بات کیوں کر رہے ہو؟” بڑے آفیسر نے کہا۔
اسی بیچ تھانے دار نے اپنی بات ڈالنے کی کوشش کی، مگر بڑے آفیسر نے ان کو چپ رہنے کا اشارہ دے کر کہا”اس کو بولنے دو۔”
رگھوناتھ نے ان کو سارا معاملہ سنایا اور کہا کہ”صاحب، اس تھانے دار نے میری ایک بھی نہیں سنی۔”
آفیسر نے ان سے کہا”آپ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا کیونکہ میں اسی لیئے یہاں آیا ہوں۔ آپ نے شاید مجھے نہیں پہچانا۔”
“نہیں جناب، میں نے آپ کو واقعی نہیں پہچانا۔”
“میں شہر کے سلام الدین کا بیٹا رجب خان ہوں۔ آپ ہمارے شال بزنس میں ہاتھ بٹاتے تھے اور میں آپ کی گود میں بیٹھ کر کھیلا کرتا تھا۔ میں ضد کرتا تھا کہ میں آپ کی چائے میں سے چائے پی لوں گا۔ کئی مہینے پہلے میری ڈیوٹی آپ کے ضلع میں لگی تو سوچا کہ میں آپ سے ملنے آؤں گا۔ آپ کے گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ آپ کو کسی فرضی کیس میں حوالات میں ڈالاگیا ہے۔”
“جی صاحب، مجھے اب یاد آیا کہ آپ رجب خان ہیں اور ہم تمہیں راجو کے نام سے پکارتے تھے” رگھوناتھ کی آنکھوں سے آنسؤ رواں ہو گئے اور خوشی سے تھرتھرا گئے۔
“اس کی کیس ڈائری لاؤ اور مدعی کو میرے سامنے پیش کرو” بڑے آفیسر نے تھانے دار سے کہا۔
“جی جناب۔”
کیس ڈائری میں لکھا تھا کہ مدعی کو ضربِ شدید لگا ہے۔ جب ان کو بڑے آفیسر کے پاس پیش کیا گیا تو آفیسر نے پوری طرح ان کا جائزہ لیا۔ اس کے جسم پر ایک خراش بھی نہیں تھی۔ جب اس کو بڑے آفیسر نے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے تو انہوں نے کہا”میں معصوم ہوں، یہ سب مجھے رام نِواس نے کروایا اور تھانے دار نے مجھ سے اس کام کے لیئے دس ہزار روپے رشوت لے لی۔”
بڑے آفیسر نے تھانے دار کو فوراً معطل کیا، رگھوناتھ کے رشتہ دار اور رام نِواس کو رشوت ستانی میں جیل بھیج دیا، رگھوناتھ کو دس ہزار واپس دئیے اور بعد میں ان کے لیئے ایک مکان بنوا دیا۔ وہ اپنی زندگی اچھی طرح سے گزارنے لگا۔
���
خانپورہ کھاگ بڈگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067