میرا وطن دیکھو
محبت کی نرالی شان ہے میرا وطن دیکھو
زمیں کا دل، فلک کی جان ہے میرا وطن دیکھو
ہمالہ کی بلندی سے عیاں ہے عظمتِ ماضی
حیا و غیرتِ انسان ہے میرا وطن دیکھو
یہ گنگا اور یہ جمنا، یہ دھارے، یہ حسیں منظر
خدا کا خاص اک احسان ہے میرا وطن دیکھو
یہاں ہر رنگ کے پودے، یہاں ہر وضع کے گلشن
چمن در اصل اک گلدان ہے میرا وطن دیکھو
کہیں مندر کی گھنٹی ہے، کہیں مسجد کی ہے دستک
محبت کا حسیں دیوان ہے میرا وطن دیکھو
شہیدوں کے لہو سے ہم نے سینچی ہے یہ ہریالی
اسی مٹی پہ سب قربان ہے میرا وطن دیکھو
ترقی کی منڈیروں پر جلائے ہیں نئے دیپک
نئے ہی دور کا عنوان ہے میرا وطن دیکھو
نہ ہندو ہے نہ مسلم ہے یہاں بس ایک انساں ہے
اخوت کی یہی پہچان ہے میرا وطن دیکھو
تعصب کی ہواؤں نے جھلس ڈالی ہے گو رنگت
مگر پھر بھی بڑا ذیشان ہے میرا وطن دیکھو
یہی تہذیب کا مرکز یہی امن و اماں کا گھر
فدا ہر در پہ کیسرؔخان ہے ،میرا وطن دیکھو
کیسر خان قیس
ٹنگواری بالا، بارہ مولہ کشمیر
موبائل نمبر؛6006242157
قدرت کی موجیں
یہ بادل یہ برسات یہ بارش کی کھوجیں
یہ دریا یہ لہریں یہ سمندر کی موجیں
یہ سبزہ یہ خوشبو یہ رنگین چمن زار
یہ گلشن یہ غنچے، یہ معطر کی موجیں
یہ پیڑوں کا رقص اورسرگوشی ہوا کی
یہ پنچھی، یہ نغمے، یہ منظر کی موجیں
فضاؤں میں گُھلتا یہ کیسا نشہ ہے
لبِ جو یہ ساقی، یہ ساغر کی موجیں
یہ صحرا کی وسعت، یہ تاروں کی دنیا
یہ خاموش راہیں، یہ منصور کی موجیں
کبھی دور صحرا کی خاموش رنگت
کبھی کوہساروں کے معمورکی موجیں
یہ بکھری ہوئی دھند پہاڑوں کے اوپر
یہ وادی، یہ جھرنے، یہ پتھر کی موجیں
عجب ایک جادو ہے قدرت کے رخ پر
کبھی برف باری کبھی زر کی موجیں
ازل سے ابد تک ہے جاری یہ ہنگام
یہ مٹی یہ خوشبو یہ پیکر کی موجیں
اسی میں کہیں کھو گیا ہے میرا دل
اٹھاتی ہیں یادیں جو نشتر کی موجیں
کہاں جا رہی ہیں، کسے ڈھونڈتی ہیں؟
مرے دل میں اُٹھتی یہ مضطر کی موجیں
تلاطم ہے کیسا یہ سوچوں کے بَن میں
بہا لے نہ جائیں یہ اندر کی موجیں
خدا جانے کس سمت لے جائیں ہم کو
خیالوں کے طوفان یہ جی بھر کی موجیں
چلو اب یہاں سے کنارے پہ ٹھہریں
بہت تھک گئی ہیں اب ایوب، ؔیہ موجیں
محمد ایوبؔ ؔ
[email protected]
اے وادئ لولاب
یہ خاموش فضائیں ، یہ مدہوش ہوائیں
یہ پانی کی موجیں جیسے کوئی گیت گائیں
یہ پُر سکون منظر، یہ پر جُنون ساغر
سانسیں رُک رہی ہیں دل ہو رہا ہے بےتاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
یہ تیرے ساکن صحرا، یہ کوہ و بیاباں
جھک کر دیکھتا ہے تجھ کو جیسے آسماں
شرافت ٹپک رہی ماتھے سے چوٹیوں کے
دامن میں تیرے چمک رہے ہیں تالاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
یہ پُرفریب ٹیلے ، یہ سرسبز میدان
یہ ساکن بیل وبوٹے یہ معصوم کھیت کھلیان
یہ تیری نواؤں میں یکسانیت کے ترانے
فیصل تیرے کِشتتوں سے نِرا ہی نایاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
سلام اے سرزمین کہ تجھ سے ہیں وابستہ
خمیر امامِ ہند کی تجھ سے ہیں پیوستہ
وابستہ ہیں ہستیاں اس ارضِ ارجمند سے
تیری سرِ زمین کا ہرذرہ ہے آفتاب
اےوادئ لولاب، اے وادئ لو لاب
آ کہ تجھ سے ہیں منسوب محبت کے زمانے
قربت کے ، فُرقت کے ، اُلفت کے فسانے
بھٹک رہی ہے آج بھی روح ان گلیوں میں
جن راہوں سے وابستہ ہیں ہردلعزیز طلاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
نازرخیزی کھیتوں کی تڑپاتی ہے کسانوں کو
بے بسی تیرے چشموں کی ترساتی ہے حیوانوں کو
ناز تھا اس چمن کو جس مردِ قلندر پر
افسوس کہ وہ مرشد اس چمن سے ہے نایاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
تیری آغوش میں محبت بھی ، عزت بھی ،کرامت بھی
عظمت بھی ، وسعت بھی ، رفعت بھی ، عنایت بھی
کبھی دھوپ ، کبھی چھاؤں ، کبھی آس ، کبھی تنہائی
کبھی خوشحالی ، کبھی بدحالی ، کبھی سکون ، کبھی اضطراب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
تیری تنہائی کو انجمن کردیا جس نے
تیرے شعلوں کو شبنم کردیا جس نے
وہ تیرا ہم سفر ،وہ تیرا ہمنوا،وہ غمگسار تیرا
وہ تیرا شاعر، وہ تیرا محسنؔ، وہ مہکتا ہو گلاب
اے وادئ لولاب ، اے وادئ لولاب
پروفیسر محسن مقبول