پرندے ہیں شجر میں پھر بھی تنہائی نظر آئی
جو منظر میں نے دیکھا مجھ کو رسوائی نظر آئی
یہ سمجھا وہ بڑے اللہ والے ہیں، شرافت ہے
جو ذہن و دل میں جھانکا ،پھر تو سچائی نظر آئی
ہمالہ تیری فطرت میں بلندی ہو تو ہو لیکن
ہمیں پروازِ شاہیں میں ہی اونچائی نظر آئی
سمجھتے ہی رہے تھے غیر ہم اک دوسرے کو پر
نسب نامہ نکالا تو شناسائی نظر آئی
فرشتوں کو بھی اندازہ نہیں تھا علمِ انساں کا
سنا جب درس آدم کا تو گہرائی نظر آئی
جو دنیا دار ہیں خود کو بہت دانا سمجھتے ہیں
ہمیں تو دین داروں میں ہی دانائی نظر آئی
جہانِ رنگ و بو میں ہر طرح کے پھول ہیں ندوی
کہیں بیلا نظر آیا کہیں جوہی نظر آئی
عبد السبحان ندوی
3پامن تلی اسٹریٹ ،کولکتہ ،مغربی بنگال
موبائل نمبر؛9831452849
اب یہ زندگی بسرنہیں ہوتی
دنیا سے جدا مگر نہیں ہوتی
جس نے دربدر کیا ہے مجھ کو
وہ بھی کیوں دربدر نہیں ہوتی
میں نے آزاد کیا ہے اس کو
اب وہ اپنی ہمسفر نہیں ہوتی
میں کس طرح زندگی سمجھ پاتا
تو میری زندگی اگر نہیں ہوتی
تم مجھ کو چھوڑ گئی ہو جاناں
کیوں حالت جاں بدتر نہیں ہوتی
یوں راستے میں چھوڑ کر گئی وہ
کوئی اس کے بعد ہمسفر نہیں ہوتی
عاشقؔ آشفتہ سرازی
ڈوڈہ کاستی گڑھ، جموں
موبائل نمبر؛6005260724
اسکی آنکھوں میں تھے چند خواب ہی سہی
گرچہ احباب سمجھ بیٹھے سراب ہی سہی
دل کا مداوا کیا تھا دل ٹوٹنے سے پہلے
گر چہ انجام اسکا ناکام ہی سہی
وہ صرف اسکے قدموں کا حساب لگاتے رہے
گر چہ اسکا ہر قدم ناکام ہی سہی
وہ پودا اپنی ہی دہلیز پہ پت جھڑ کا گُل ہوا
گر چہ لوگوں کی نظروں میں وہ گلفام ہی سہی
اس نے زندگی سمیٹی تھی کسی تقریب کے بغیر
گر چہ آغاز میں اسکا اختتام ہی سہی
اس نے وفاء کے ناتے اسے دل تو دیا تھا
گر چہ اسکی نظروں میں وہ جام ہی سہی
بانٹ دیا ساقی نے میخانے کے بادخواروں میں
گرچہ اس گستاخی کا اس پر الزام ہی سہی
تم نے بھی کیا خوب سلہ دیا اسکی دلنوازی کا
گر چہ وہ تیرے ورد میں ہے سر شام ہی سہی
اب کہ وہ چھپا پھرے ہے دل تھام ہی سہی
گر چہ نگر نگر ڈگر ڈگر گھر گھر بدنام ہی سہی
عادل رشید بٹ
لارم گنجی پورہ، اننت ناگ، کشمیر