سمت بھارگو
راجوری//بارڈر روڈز آرگنائزیشن نے تاریخ میں پہلی مرتبہ موسم سرما کے دوران اہم اور اسٹریٹجک مغل روڈ کو برف سے صاف کر کے کھول دیا ہے، جو راجوری اور پونچھ اضلاع کو کشمیر وادی کے ضلع شوپیان سے جوڑتی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے کی رابطہ سہولیات کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔یہ سڑک ڈائریکٹر جنرل روڈ ڈیولپمنٹ و اسپیشل سیکریٹری وزارت روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز وی کے راجوت نے اپنے دو روزہ دورہ راجوری و پونچھ کے دوران باضابطہ طور پر کھولی۔ وہ اس دورے پر جموں و کشمیر میں سڑک بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لینے آئے ہیں۔اس وقت مغل روڈ کی دیکھ بھال بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے ذمہ ہے اور حال ہی میں اسے قومی شاہراہ 701 اے کا درجہ دیا گیا ہے۔
یہ سڑک پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے بفلِیاز سے شروع ہو کر شوپیان کے ہیرپورہ تک جاتی ہے۔بی آر ائوحکام کے مطابق پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ فروری کے مہینے میں ہی پیر کی گلی تک برف ہٹا کر سڑک کو قابل رسائی بنایا گیا، جبکہ گزشتہ برسوں میں یہ سڑک عموماً اپریل یا مئی میں کھولی جاتی تھی۔ پروجیکٹ سمپرک کی ٹیموں نے بفلِیاز سے پیر کی گلی تک جبکہ پروجیکٹ بیکن کی ٹیموں نے شوپیان کی جانب سے برف ہٹانے کا کام انجام دیا۔وی کے راجوت نے پیر کی گلی پاس کا افتتاح چیف انجینئر پروجیکٹ سمپرک اور پروجیکٹ بیکن کی موجودگی میں کیا اور سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دینے والیبی آر ائو اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ سڑک کو ہر موسم میں قابل استعمال بنانے کیلئے تقریباً دس کلومیٹر طویل سرنگ کی تعمیر کی منصوبہ بندی پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔فی الحال سڑک پر عام ٹریفک کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ ضلعی انتظامیہ کرے گی۔ حکام کے مطابق مجوزہ سرنگ کے لئے جیو ٹیکنیکل سروے جلد شروع کیا جائے گا جبکہ سڑک کے مجوزہ روٹ کی منظوری پہلے ہی یونین ٹیریٹری سطح پر دی جا چکی ہے اور وزارت میں اس کا جائزہ جاری ہے۔دورے کے دوران ڈی جی نے اکھنور۔راجوری۔پونچھ قومی شاہراہ منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ آٹھ پیکیجز میں سے دو مکمل ہو چکے ہیں جبکہ چار جون تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ ایک پیکیج سال کے آخر تک مکمل ہوگا، تاہم منجاکوٹ سے بی جی ٹنل تک 16 کلومیٹر حصہ جیو ٹیکنیکل چیلنجز کے باعث 2027 تک مکمل ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کنڈی اور نوشہرہ ٹنلز پہلے ہی ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہیں، سنگل ٹنل جون تک فعال ہونے کی توقع ہے جبکہ بی جی ٹنل پر کھدائی کا کام جاری ہے۔ بعض مکمل پل حفاظتی جانچ کے بعد جلد ٹریفک کے لئے کھول دیے جائیں گے۔