یو این آئی
لاہور/ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے ہنگامہ خیز مقابلوں کے دوران پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اپنے چوتھے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کی بیٹنگ اپروچ پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ورلڈ کپ کی تاریخ میں بابر اعظم کی کارکردگی کے حوالے سے ایک پریشان کن حقیقت سامنے آئی ہے،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ محض 111.81ہے۔یہ اسٹرائیک ریٹ اس فہرست میں شامل تمام کھلاڑیوں میں سب سے کم ہے، جو پاکستان کے سابق کپتان محمد حفیظ کے برابر ہے۔
جہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 150 سے زائد کا اسٹرائیک ریٹ معمولی بات سمجھی جا رہی ہے، وہاں بابر کی یہ سست روی ٹیم کے لئے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔بابر اعظم کی مسلسل ناکامیوں اور سست بیٹنگ کے باوجود قیادت اور انتظامیہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے ان کے وسیع تجربے کی بنیاد پر ان پر مکمل بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ٹیم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ بابر ایک بڑے کھلاڑی ہیں اور کسی بھی وقت فارم میں واپس آ سکتے ہیں۔