عظمیٰ نیوز سروس
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان ست شرمانے تریکوٹہ نگر جموں میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں ’جموں و کشمیر میں ہندوتوا کی ترویج تاریخی و ثقافتی تناظر‘ کے عنوان سے کتاب کی رونمائی انجام دی۔ اس کتاب کے مصنف ایس کے شرما ہیں جو محکمہ انکم ٹیکس کے سابق کمشنر اور ناناجی دیشمکھ لائبریری و ڈاکیومنٹیشن سینٹر کے شریک کنوینر رہ چکے ہیں۔تقریب میں پارٹی کی نائب صدر ریکھا مہاجن، جنرل سیکریٹری بلدیو سنگھ بلاوریا اور گوپال مہاجن، میڈیا انچارج ڈاکٹر پردیپ مہوترا، آل سیل انچارج وید شرما، ضلع صدر نریش سنگھ جسروتیا، ترجمان بل بیر رام رتن، شعبہ لائبریری کے انچارج پروفیسر کلبھوشن مہوترا سمیت دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ست شرما نے کہا کہ کتابیں کسی بھی معاشرے کی تہذیبی یادداشت اور فکری شعور کی عکاس ہوتی ہیں اور ادب نسلوں کی رہنمائی کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے شعبہ لائبریری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نایاب اور قیمتی علمی ذخیرہ محفوظ کرنا جموں و کشمیر کی فکری اور ثقافتی تاریخ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے مصنف کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب خطے کی تاریخی اور ثقافتی ارتقا کو جامع انداز میں پیش کرتی ہے اور نوجوان نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا صرف عقیدہ نہیں بلکہ ایک وسیع ثقافتی اور جغرافیائی شناخت ہے جس نے مختلف برادریوں کو جوڑنے میں کردار ادا کیا ہے۔ست شرما نے وزیر اعظم مودی کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں ملک بھر خصوصاً جموں و کشمیر کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورثہ مقامات کی بحالی، مقامی روایات کے فروغ اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی کوششیں ثقافتی احیاء کی عکاس ہیں۔مصنف ایس کے شرما نے اپنے خطاب میں کہا کہ کتاب اتحاد اور جغرافیائی ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے اور نوجوانوں کو اپنی تہذیبی شناخت سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ایک مضبوط اور ثقافتی طور پر مربوط قوم کی تعمیر ممکن ہو سکے۔