محتشم احتشام
پونچھ//گورسائی نالہ میں پانی کی شدید قلت نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہوئے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ پندرہ روز سے پانی کی سپلائی معطل ہونے کے باعث علاقہ مکین بوند بوند کو ترس رہے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی عدم توجہی نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں پانی کی فراہمی کے لئے ایک واٹر ٹینک تعمیر کیا گیا تھا جس کے ساتھ دو بور ویل نصب کئے گئے تھے تاہم ان میں سے ایک بور ویل کی موٹر تقریباً چھ ماہ قبل جل گئی تھی، جسے اب تک مرمت نہیں کیا گیا، جبکہ دوسرا بور ویل بھی پندرہ روز قبل خراب ہو چکا ہے۔ دونوں نظاموں کی بندش کے باعث پورا واٹر سپلائی سسٹم مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بارہا نشاندہی کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گھریلو ضروریات کی تکمیل دشوار ہو چکی ہے اور خواتین، بچے اور بزرگ دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا یہ بحران صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ سماجی و مذہبی ادارے بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
مساجد میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں، جبکہ ایک مقامی مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ کو پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح علاقے میں قائم جموں و کشمیر بینک کی شاخ میں بھی پانی کی عدم دستیابی کے باعث بینک ملازمین اور صارفین کو روزمرہ امور انجام دینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔شہریوں نے اس صورتحال کو ماہِ مقدس رمضان میں انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سحری و افطار کے اوقات میں پانی کی کمی ایک اذیت ناک مسئلہ بن جاتی ہے اور عبادات کی ادائیگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دونوں بور ویل کی موٹروں کی فوری مرمت کر کے پانی کی سپلائی بحال کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، تاکہ گورسائی نالہ کے مکین اس کربناک صورتحال سے نجات حاصل کر سکیں اور معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔