فکر و فہم
ڈاکٹر شگفتہ خالد ی
اسلام نے عورت کو جس عزت اور مقام سے نوازا وہ بے مثال اور لاجواب ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں عورت کو کمتر سمجھا جاتا تھا اسے وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا اسے سماجی طور پر دبایا جاتا تھا اور بعض قبائل میں عورتوں کو زندہ درگور بھی کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس ظلم کے خلاف پہلی بار واضح طور پر آواز اٹھائی اور عورت کو انسانی حقوق اور معاشرتی مقام سے ہمکنار کیا۔اسلام نے عورت کو انسانی حیثیت دی اور اسے زندگی کے ہر شعبے میں حقوق عطا کئے۔ قرآن مجید نے عورت کو صرف’’بیوی‘‘ یا’’ماں‘‘ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مکمل شخصیت کے طور پر تسلیم کیا۔ قرآن کی واضح آیت ہے۔’’اور مردوں اور عورتوں میں سے جو نیک کام کرے گا اسے ہم اچھا اجر دیں گے۔‘‘یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کو برابر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور دونوں کو عمل کی بنیاد پر جزا ملنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا، جو اس سے پہلے معاشروں میں نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اسلام نے تعلیم کو ہر مسلمان کے لیے فرض قرار دیا چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ حضوراکرم ؐ نے خود عورتوں کو تعلیم کی تلقین کی اور علم حاصل کرنے کو عبادت قرار دیا۔ اس سے عورت نہ صرف گھریلو زندگی میں بلکہ معاشرے میں بھی فعال کردار ادا کرنے لگی۔اسلام نے عورت کو شادی اور خاندان کے نظام میں بھی اہم مقام دیا۔ عورت کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں اور اس کے حقوق میں مہربانی، نفقہ، حسن سلوک اور عزت شامل ہیں۔ اسلام میں بیوی کو صرف خدمت کرنے والی نہیں بلکہ شریکِ حیات سمجھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام نے ماں کے مقام کو بہت بلند کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، جس سے ماں کی عظمت اور احترام کا اندازہ ہوتا ہے۔اسلام نے عورت کو معاشی آزادی بھی دی۔ عورت کو اپنا مال رکھنے، خرید و فروخت کرنے، کاروبار کرنے اور اپنی کمائی کو اپنے اختیار میں رکھنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ عورت کے پاس طلاق اور حجر کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ کے طریقے بھی موجود ہیں۔ یہ تمام حقوق اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام نے عورت کو ایک آزاد اور باعزت انسان سمجھا ہے، نہ کہ محض سماجی فرائض کی ایک چیز۔اسلام نے عورت کو معاشرے کا فعال حصہ بنایا ہے۔ صحابہ کی خواتین، جیسے حضرت عائشہؓ، حضرت خدیجہ ؓ، حضرت فاطمہ ؓ نے اسلامی تاریخ میں علمی، سماجی اور سیاسی کردار ادا کئے۔ ان کی زندگیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ عورت ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔
عصرِ حاضر میں بھی ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہماری سوچ، رسم و رواج یا غلط ثقافتی روایات اسلام کی تعلیمات کے خلاف تو نہیں جا رہی۔ بعض معاشروں میں عورت کو ابھی بھی کم تر سمجھا جاتا ہے، اس کی تعلیم پر پابندی لگائی جاتی ہے، اسے گھریلو مسائل تک محدود رکھا جاتا ہے یا اسے ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور حقوق دیے ہیں اور یہ ذمہ داری ہم پر ہے کہ ہم ان تعلیمات کو سمجھیں اور انہیں عملی زندگی میں نافذ کریں۔
ہمیں عورتوں کی خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم خواتین کے حقوق کی حفاظت کریں گے، انہیں تعلیم اور ترقی کے برابر مواقع دیں گے، اور معاشرے میں ان کی عزت و احترام کو برقرار رکھیں گے۔ کیونکہ جب عورت مضبوط ہوگی، خاندان مضبوط ہوگا اور جب خاندان مضبوط ہوگا، معاشرہ مضبوط ہوگا۔آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اسلام نے عورت کو بے مثال عزت دی اور اسے انسانیت کی بلندی تک پہنچایا۔ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرانی چاہیے کہ عورت کے حقوق اور مقام کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں اور معاشروں میں خواتین کی عزت و احترام کو برقرار رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
[email protected]