عظمیٰ نیوز سروس
جموں//اسمبلی میں رکن اسمبلی میر سیف اللہ کی جانب سے کپوارہ ضلع میں الگ ٹورزم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔حکومت نے بتایا کہ ‘کیونکہ ضلع پہلے ہی لولا ب بنگس ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ کار میں شامل ہے، جس کا صدر دفتر کپوارہ میں قائم ہے اور ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر اس کی سربراہی کرتا پے’۔اسمبلی میں پیش کئے گئے جواب کے مطابق حکومت نے اس بات کی تصدیق کی کہ کپوارہ ضلع سیاحت کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے اور یہ علاقہ اپنی دلفریب وادیوں، تاریخی و ثقافتی ورثے اور قدرتی خوبصورتی کے باعث وادی کشمیر کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔حکومت نے کہا کہ ضلع میں لولاب، بنگس، کیرن اور دیگر پْرسکون وادیوں کا حسن سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔حکومت نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ گزشتہ برسوں میں مقامی اور بیرونی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کیرن، جمگند، واگبال اور دیدی کوٹ جیسے سرحدی علاقوں کا رخ کر رہی ہے، جو تیزی سے آف بیٹ ڈیسٹی نیشن کے طور پر مقبول ہو رہے ہیں۔البتہ حکومت نے دو اہم نکات پر صاف جواب دیا:ان دیہات کو کسی بھی نوٹیفائیڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت شامل نہیں کیا گیا ہے اور علیحدہ ٹورزم اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔حکومت نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پورا کپوارہ ضلع لولا ب بنگس ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ماتحت ہے، اس لیے الگ اتھارٹی قائم کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور نہ ہی رواں سال ایسی کسی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔