یو این آئی
سرینگر//شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں جاری زرعی میلہ اس وقت وادی بھر کے کسانوں، نوجوانوں اور ہنرمندوں کی توجہ کا خاص مرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس میلے میں شرکت کی، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زرعی شعبے میں جدت، نئی ٹیکنالوجی اور مقامی مصنوعات کے فروغ کے لیے وادی میں کس قدر دلچسپی بڑھ رہی ہے۔میلے میں سب سے زیادہ رش جدید اقسام کے بیجوں اور پودوں والے اسٹالز پر دیکھا گیا۔ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے کسان اپنی زرعی زمین کے مطابق بیجوں کا انتخاب کرتے نظر آئے۔پلوامہ کے ایک کسان محمد رفیق بٹ نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا:’ہم برسوں سے وہی پرانے بیج استعمال کرتے رہے، لیکن اس میلے میں پہلی بار اتنی اقسام ایک ساتھ دیکھنے کو ملیں۔ جدید ہائبریڈ بیجوں سے فصل کی پیداوار بڑھے گی، یہی ہماری ضرورت ہے۔‘اسی طرح بڈگام سے آئے نوجوان کسان احمد الدین شاہ نے کہا کہ جدید زرعی آلات کے ڈیمو نے ان کی سوچ بدل دی ہے۔’ہم نوجوانوں کے لیے یہ میلہ بہت فائدہ مند ہے۔ میں نے ڈرِپ اریگیشن سسٹم اور سبزیوں کی نئی ورائٹیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ یہ ہمارے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے۔‘اس زرعی میلے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس بار تعلیم یافتہ نوجوان پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں اپنے اسٹالز کے ساتھ شریک ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی اسٹارٹ اپ مصنوعات پیش کر رہے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے طریقے بھی سمجھا رہے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان شاہد نذیر نے نامہ نگار کو بتایا:’ہم نے نامیاتی کھاد اور بایو فرٹیلائزر کا اسٹال لگایا ہے۔ نوجوانوں کو پیغام یہی ہے کہ زراعت آج نقصان کا نہیں بلکہ جدید تکنیک کے ساتھ ایک بڑا کاروباری شعبہ بن چکا ہے۔‘ایک اور طالبہ زویا فاضل نے کہا کہ اس میلے نے نوجوان خواتین کو خود انحصاری کا پیغام دیا ہے۔میلے میں نظر آنے والا جوش و خروش اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی کشمیر میں زرعی شعبے اور دستکاری دونوں میں نئی جان پیدا ہو رہی ہے۔