ظفر اقبال
اوڑی/سرحدی قصبہ اوڑی کے متعدد سرکاری سکولوں میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی کمی کی وجہ سے درس تدریس کا کام متاثر ہو چکا ہے جبکہ کئی سکولوں میں مخصوص مضامیں پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اوردفتروں میں بھی اساتذہ ہی کلرکی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعدد کو اپنے سکولوں کے بجائے دوسری جگہوں پر منسلک کیا گیا ہے۔ اگر چہ ان اساتذہ کو اپنے سکولوں میں واپس بھیجنے کے کئی بار احکامات صادر ہوئے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔۔ اوڑی کے چا زتعلیمی زون جن میں اوڑی، جولا، چندد واڑی اور بونیار شامل ہیں میں سے تقریبا 250 کے قریب اساتذہ کو محکمہ نے اپنے سکولوں کے بجائے دوسرے من پسند جگہوں پر منسلک کیا ہے جن میں 50 سے زائد اساتذہ کو اپنے تعلیمی زونوں سے باہر بارہمولہ یا سرینگر کے سکولوں میں منسلک کیا گیا ہے۔جسکی وجہ سے اوڑی کے دور دراز گاوں کے سکولوں میں تدریسی عملے کی شدید قلت پائی جاتی ہے ۔معلوم ہوا کہ سرحدی قصبہ کے دور دراز سکول بائز پرئمری سکول بٹنگی، لالومار، کھیتاں، بائز ہرئمری سکول کلساں، ہائے سکول زمبور پٹن، بائز پرئمری سکول چھولاں، گرلز مڈل سکول لچھی پوری، بائز پرئمری سکول گواس، بائز پرئمری سکول مایاں بائز ہرئمری سکول خوشمرگ، بائز پرئمری سکول میدانن، پرئمری سکول لاجڈلی، مڈل سکول چوٹالی، پرئمری سکول باغ دودرن کے علاوہ کئی سکولوںمیں تدیسی عملے کی کمی کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ درجنوں اساتذہ کو اثر ورسوخ کی وجہ سے اپنے من پسند نزدیکی سکولوںمیں منسلک رکھا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ زونل ایجوکیشن دفتروں میں عملہ کی کمی کی وجہ سے اساتذ کو ہی کام کاج کیلئے دفتروں میں منسلک رکھا گیا ہے۔اوڑی زون میں ایک کلرک کو ڈپٹی کمشنر باہمولہ کے دفتر میں منسلک رکھا ہے۔یاد رہے کہ سال 2022 اگست میں محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکٹری نے اوڑی دورے کے دوران بتایا تھا کہ محکمہ جموں و کشمیر میں تعلیم کے نظام کو مجموعی منظر کو بہتر بنانے کے لئے تدریسی عملے کی تعیناتی کے عمل میں ہے۔تاہم انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ کو منظم بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اور دور رداز علاقوں میں تدریسی عملے کی کمی کو دور کرنے کی یقین دہانی کی تھی مگر ابھی تک زمینی سطح پر کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔عوامی حلقوں نے کہا محکمہ ہر سال لاکھوں بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ کرتی ہے مگر معقول دریسی عملے کی تعیناتی میں ناکام ہے۔