عشیار عبداللہ
علمِ عَروض
تعریف، روایت، زوال اور جدید شاعری پر اس کے فکری، فنی اور تہذیبی اثرات۔ اردو شاعری برصغیر کی تہذیبی اور فکری تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس میں لفظ صرف معنی کا وسیلہ نہیں بلکہ آواز، آہنگ اور موسیقیت کا حامل بھی ہوتا ہے۔ یہی صوتی حسن شاعری کو نثر سے ممتاز کرتا ہے اور اسے ایک باقاعدہ فن کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ مگر آج کے عہد میں، جب شاعری کے نام پر ہر جذباتی تحریر کو قبولیت حاصل ہو رہی ہے، یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ کیا اردو شاعری اپنی فنی شناخت کھو رہی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اس زوال کی بنیادی وجہ کیا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے بار بار ایک ہی نام سامنے آتا ہے: علمِ عَروض۔
علمِ عَروض کی تعریف اور بنیادی تصورعلمِ عَروض اردو شاعری کا وہ فنی و صوتی علم ہے جو شعر کے وزن، بحر، رکن، تقطیع اور آہنگ کے اصول متعین کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں عَروض یہ طے کرتی ہے کہ شعر کی آواز کس ترتیب سے بہے گی، کہاں ٹھہراؤ آئے گا، کہاں روانی تیز ہو گی اور کہاں آواز میں نرمی یا شدت پیدا ہو گی۔ یہ علم شاعری کو ایک صوتی نظم عطا کرتا ہے۔عَروض کی بنیاد ہجاؤں پر ہے، جو مختصر اور طویل ہوتے ہیں۔ انہی ہجاؤں کے مخصوص تناسب سے بحریں وجود میں آتی ہیں اور ہر بحر دراصل ایک ایسا صوتی سانچہ ہوتی ہے جس کے اندر رہ کر شاعر اپنے خیال کو ڈھالتا ہے۔ یہی سانچہ شعر میں وہ موسیقیت پیدا کرتا ہے جو اسے محض نثری بیان سے الگ کرتی ہے۔یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ عَروض کوئی خارجی پابندی نہیں بلکہ شاعری کی داخلی منطق ہے۔ جس طرح موسیقی میں تال اور سُر کے بغیر دھن ممکن نہیں، اسی طرح شاعری میں وزن کے بغیر فنی تکمیل ممکن نہیں۔اردو شاعری میں عَروض کی تاریخی حیثیت اردو شاعری نے عربی اور فارسی شعری روایت سے استفادہ کر کے اپنے لئے ایک مضبوط عَروضی نظام قائم کیا۔ صدیوں تک شاعر بننے کا مطلب ہی یہ تھا کہ شاعر عَروض سے واقف ہو۔ عَروض سیکھنا شاعری کی تربیت کا پہلا زینہ سمجھا جاتا تھا۔ شاعری محض جذبے کا نہیں بلکہ ریاضت کا فن تھی۔کلاسیکی شعرا کے ہاں عَروض اس قدر فطری ہو چکی تھی کہ شعر میں وزن محسوس ہی نہیں ہوتا تھا، مگر اس کی تاثیر ہر سطح پر موجود رہتی تھی۔کلاسیکی شعرا اور عَروضی پختگی میر تقی میر کی شاعری بظاہر سادہ اور بے ساختہ نظر آتی ہے، مگر یہ سادگی دراصل عَروضی مہارت کا نتیجہ ہے۔
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے۔یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا۔یہ شعر معنوی سطح پر بھی گہرا ہے اور صوتی سطح پر بھی مکمل توازن رکھتا ہے۔ وزن یہاں بوجھ نہیں بنتا بلکہ تاثیر میں اضافہ کرتا ہے۔غالب کی شاعری میں فکری پیچیدگی اور فلسفیانہ گہرائی کے باوجود عَروضی نظم و ضبط کہیں کمزور نہیں پڑتا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں
یہاں وزن نہ صرف برقرار ہے بلکہ معنی کے بوجھ کو سنبھالنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔اقبال کے ہاں عَروض ایک فکری قوت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان کی شاعری میں وزن خطیبانہ شان پیدا کرتا ہے اور جدید موضوعات کو بھرپور تاثیر عطا کرتا ہے۔ اقبال اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ جدید فکر اور عَروض ایک دوسرے کی ضد نہیں۔جدید عہد اور عَروض سے انحراف انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی میں جب اردو شاعری میں نظم، آزاد نظم اور نئے تجربات سامنے آئے تو یہ ایک فطری ارتقائی عمل تھا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اس ارتقا کو روایت سے مکمل لاتعلقی کا نام دے دیا گیا۔رفتہ رفتہ یہ تصور عام ہونے لگا کہ وزن شاعری پر غیر ضروری پابندی ہے۔ اس سوچ کو بعد میں سوشل میڈیا نے مزید تقویت دی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہر وہ تحریر جو سطروں میں لکھی ہو، شاعری کہلاتی ہے، خواہ اس میں صوتی نظم موجود ہو یا نہیں۔مثال کے طور پر
میں نے تمہیںایک خاموش دن میں یاد کیاجب لفظ اپنی سانس کھو بیٹھے تھے۔ یہ تحریر ایک تاثر ضرور رکھتی ہے، مگر چونکہ اس میں نہ وزن ہے، نہ بحر، نہ صوتی تسلسل، اس لئے یہ شاعری نہیں بلکہ نثری اظہار ہے۔ مسئلہ اس اظہار کا وجود نہیں بلکہ اسے شاعری کہنا ہے۔آزاد نظم اور بے وزن نثر کا فرق یہاں ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ آزاد نظم بے وزنی کا نام نہیں۔ آزاد نظم بھی داخلی آہنگ، صوتی توازن اور نظم کی پابند ہوتی ہے، اگرچہ وہ کلاسیکی بحروں کی سخت قید میں نہیں رہتی۔ اس کے برعکس آج کی بہت سی تحریریں نہ کلاسیکی وزن رکھتی ہیں اور نہ داخلی آہنگ ہی اور یہی اصل فنی مسئلہ ہے۔عَروض کی نظراندازی کے فنی نتائج علمِ عَروض سے دوری کے اثرات محض فنی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہیں۔
موسیقیت کا زوال
شاعری بنیادی طور پر سنی جانے والی صنف ہے۔ وزن کے بغیر شعر کان سے دل تک پہنچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی بہت سی شاعری وقتی داد تو حاصل کر لیتی ہے، مگر حافظے کا حصہ نہیں بنتی۔
فنی تربیت کی کمی
عَروض شاعر کو لفظی احتیاط، اختصار اور صوتی شعور سکھاتی ہے۔ اس کے بغیر شاعری یا غیر ضروری طوالت کا شکار ہو جاتی ہے یا صوتی انتشار کا۔
تنقیدی معیار کی گراوٹ
جب شعر اور نثر کے درمیان فرق مٹ جائے تو ادبی تنقید کے معیارات بھی غیر واضح ہو جاتے ہیں۔ ہر تحریر شاعری کہلانے لگے تو معیار کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔
تعلیمی ادارے اور عَروض
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں میں عَروض کو مشکل اور غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کو شاعری پڑھائی تو جاتی ہے، مگر اس کے فنی ڈھانچے سے روشناس نہیں کرایا جاتا۔ نتیجتاً نئی نسل شاعری کو محض جذباتی اظہار سمجھنے لگتی ہے۔کیا عَروض واقعی فرسودہ ہے؟یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عَروض فرسودہ نہیں، بلکہ ہماری فنی بے صبری فرسودہ ہو چکی ہے۔ مسئلہ عَروض نہیں، بلکہ اس سے ناواقفیت ہے۔ عَروض اظہار کو محدود نہیں کرتی بلکہ اسے مہذب اور منظم بناتی ہے۔
اختتامی کلمات
وزن کے بغیر لفظ آج اردو شاعری ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر اسے محض وقتی مقبولیت اور ڈیجیٹل داد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو یہ اپنی فنی شناخت کھو بیٹھے گی۔ علمِ عَروض کو ترک کرنا جدت نہیں بلکہ فنی سہل پسندی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عَروض کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے شاعری کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کریں۔ کیونکہ جب شاعری وزن کھو دیتی ہے، تو وہ صرف بحر نہیں کھوتی بلکہ وہ اپنی روح، اپنی یادداشت اور اپنی بقا بھی کھو دیتی ہے۔
���
موبائل نمبر؛7006347399
[email protected]