ٹی ای این
سرینگر//آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات، خاص طور پر ڈیجیٹل گرفتاری فراڈ کے پیش نظر بھارت میں بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے درمیان ایک نئی انشورنس پروڈکٹ متعارف کرانے پر ابتدائی سطح کی بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ اس مجوزہ انشورنس کا مقصد ان افراد کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے جو سائبر مجرموں کی جانب سے نفسیاتی دباؤ، دھمکی یا خوف کے ماحول میں آ کر اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو بھارت اس نوعیت کی سائبر فراڈ انشورنس متعارف کرانے والا دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جہاں جعلساز خود کو پولیس، سی بی آئی یا دیگر تفتیشی ایجنسیوں کا اہلکار ظاہر کر کے شہریوں کو گرفتاری کا خوف دلا کر رقم منتقل کرواتے ہیں۔اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر بھارت کی حکومت نے ایک بین المحکماتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ڈیجیٹل فراڈ سے نمٹنے کیلئے نئے حفاظتی اقدامات اور تکنیکی حل پر کام کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کے ایجنڈے میں یو پی آئی (UPI) کِل سوئچ جیسے ٹولز بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے مشتبہ لین دین کو فوری طور پر روکا جا سکے گا تاکہ فراڈ کی صورت میں نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔بینکنگ اور انشورنس شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی انشورنس پالیسیاں عام طور پر ایسے نقصانات کو کور نہیں کرتیں جو صارف کی اپنی رضامندی سے کی گئی ٹرانزیکشن کے نتیجے میں ہوں، چاہے وہ رضامندی شدید ذہنی دباؤ یا خوف کے تحت ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ تاہم ڈیجیٹل گرفتاری فراڈ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں متاثرہ فرد فیصلہ سازی کی آزاد حالت میں نہیں ہوتا، جس کے باعث اس قسم کے نقصانات کو انشورنس کے دائرے میں لانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔