عظمیٰ نیوز سروس
جموں // مظفر اقبال خان، رکن قانون ساز اسمبلی تھنہ منڈی نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جل شکتی محکمہ کی گرانٹس پر بحث کے دوران اپنے حلقہ انتخاب میں پانی کے شدید بحران کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی دعوؤں کے باوجود کئی دور دراز علاقوں میں عوام آج بھی پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھنہ منڈی اور اس کے ملحقہ پہاڑی و دیہی علاقوں میں پانی کی قلت ایک دیرینہ مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد دیہات میں لوگ اب بھی پانی حاصل کرنے کے لیے خچروں اور دیگر روایتی ذرائع کا سہارا لینے پر مجبور ہیں، جو موجودہ دور میں انتظامی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ایم ایل اے نے کہا کہ پہاڑی جغرافیہ، ناکافی پائپ لائن نظام اور ادھورے آبی منصوبوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جل شکتی محکمہ کے تحت جاری اسکیموں پر تیزی سے کام مکمل کیا جائے تاکہ دیہی آبادی کو مستقل بنیادوں پر صاف پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔مظفر اقبال خان نے مزید کہا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی تاخیر عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ زمینی سطح پر سروے کر کے ترجیحی بنیادوں پر ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں پانی کا بحران شدید ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں پانی کا مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عوامی صحت اور روزمرہ زندگی پر مرتب ہوں گے۔ اسمبلی میں ان کی تقریر کو عوامی مسائل کی بھرپور نمائندگی قرار دیا گیا اور ارکان نے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔