عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//سرحدی اضلاع میں خواتین کی صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے شعبہ امراضِ نسواں و زچہ بچہ نے دو روزہ کانفرنس و ورکشاپ ’انتر درشتی 2026‘ کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ پروگرام کالج سے منسلک ہسپتال میں منعقد ہوا اور اسے راجوری–پونچھ خطے میں گائناکالوجی کے موضوع پر اپنی نوعیت کا پہلا علمی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔پیر پنجال خطہ، جو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے، طبی سہولیات کے اعتبار سے جغرافیائی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں جی ایم سی راجوری کو اس پورے علاقے کی واحد بڑی طبی و تدریسی سہولت تصور کیا جاتا ہے، جہاں مسلسل ریاستی اور قومی سطح کے تربیتی پروگرام، سیمینار، کانفرنسیں اور بیداری مہمات منعقد کی جاتی رہی ہیں۔ تازہ اقدام ادارے کے معیاری طبی خدمات اور علمی برتری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔خواتین کی صحت میں سائنس، حساسیت اور خدمت کے امتزاج کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے ممتاز ماہرینِ طب، پروفیسرز، کنسلٹنٹس اور طلباء نے شرکت کی۔ تقریب کا افتتاح پرنسپل و پیٹرن پروفیسر (ڈاکٹر) اے ایس بھاٹیہ نے کیا، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر بریگیڈیئر ڈاکٹر پونم رائے شریک رہیں۔ خصوصی مدعو کے طور پر گجرات، بڑودہ سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹر پروفیسر (ڈاکٹر) دیویش شکلا نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ڈاکٹر آر سی شرما،پروفیسر (ڈاکٹر) شلپی شکلا، کانفرنس کے آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) چندر شیکھر شرما اور اکیڈمکس چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) جمیل الحسن خان سمیت سینئر فیکلٹی ممبران بھی موجود رہے۔کانفرنس کے پہلے روز جدید طبی تحقیق، کلینکل چیلنجز اور شواہد پر مبنی علاج کے طریقوں پر تفصیلی تکنیکی سیشن منعقد ہوئے۔ دوسرے روز لائیو لیپروسکوپک ورکشاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں شرکاء کو جدید کم تکلیف دہ جراحی طریقوں کی عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔