۔ 2برسوں میں 12000سے زائد اسامیاں مشتہر۔50کروڑ وصول ،77000اسامیاں اب بھی خالی
بلال فرقانی
سرینگر// گزشتہ دو برسوں کے دوران جموں و کشمیر حکومت کی دو بھرتی ایجنسیوں نے روزگار کے خواہشمند نوجوانوں سے تقریباً 50 کروڑ روپے بطور بھرتی فیس وصول کئے ہیں۔ اس مدت کے دوران سروس سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے قریب 11000افراد مختلف محکموں میں مختلف زمروں کی ملازمتوں کے اہل قرار دیئے گئے۔حالانکہ اسمبلی میں یہ جانکاری دی گئی ہے کہ دونوں ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے پاس 77000اسامیاں خالی پڑی ہیں جو سرکاری محکموں نے ریفر کی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں روزگار کے متلاشی نوجوانوں سے بھرتی فارم داخل کرنے کے عوض فیس وصولی نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔حکومت نے گذشتہ روز اسمبلی میں جو اعدادوشمار پیش کئے، انکے مطابق سروس سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گزشتہ دو مالی سالوں 2023-24 اور 2024-25 میں ملازمت کے متلاشیوں سے درخواست اور امتحانی فیس کی مد میں تقریبا 48.88 کروڑ اکٹھے کیے ہیں۔گزشتہ برس ان بھرتی اداروں نے قریب33کروڑ روپے کی فیس امیدواروں سے جمع کی تھی۔اس کے برعکس، بھرتیوں کی رفتار محدود رہی۔ دو برسوں کے دوران 12150 کے قریب اسامیاںمشتہر کی گئیں ۔
ان دو برسوں میںسروس سلیکشن بورڈنے تقریباً 10,400 اسامیوںکو مشتہر کیا، جبکہ گزیٹیڈ عملے کی تقرری کیلئے ذمہ دار پبلک سروس کمیشن نے لگ بھگ 1,750 اسامیوں کی تشہیر کی۔ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025 تک، جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد بتائی گئی، جو کہ قومی اوسط 3.5 فیصد سے زیادہ ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 50,000 گریجویٹ پاس آئوٹ ہوئے۔صنعتی شعبے میں 23-2022 میں 15,719 اور 2023-24 میں 29,969 روزگار پیدا ہوئے۔گزشتہ دو سالوں کے دوران 246 جاب میلے منعقد کیے گئے جن میں 4,893 افراد نے شرکت کی۔جے اینڈ کے سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل)رولز کے مطابق، کوئی شخص عام طور پر کسی سروس میں تصدیق کے لیے اس وقت تک اہل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ دو سال کی پروبیشن مدت پوری نہ کر لے۔یہ اعداد و شمار ایک، کشیدہ، صورتحال کو نمایاں کرتا ہے جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سرکاری عہدوں کے لیے درخواستیں دے رہی ہے، جس سے حکومت کو امتحانی فیسوں سے نمایاں آمدنی حاصل ہو رہی ہے وہیں بھرتی ایجنسی کی جانب سے بھرتی کا عمل سست رفتاری سے چل رہا ہے۔نیشنل کانفرنس سرکارنے دوسرا بجٹ بھی پیش کیا،تاہم نلازمتوں کے حصول کیلئے درخواست فیس کو مفت کرنے کی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ فیس سے بھاری وصولی اور محدود تقرریوں کے درمیان یہ عدم توازن نوجوانوں میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ بار بار فیس کی وصولی انکے والدین کیلئے بہت بڑا مالی بوجھ بن رہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ روزگار کے نام پر بھاری درخواست فیس لینے کی پالیسی سے وہ زبردست ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’ایک ہی سال میں کئی امتحانات کیلئے درخواست دینی پڑتی ہیں اور ہر بار فیس جمع کرانا آسان نہیںہے۔ انکا کہنا ہے کہ جب تقرریاں کم اور کامیابی کا تناسب محدود ہو ، تو یہ فیس مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے بھرتی فیس کو ‘‘بے روزگاری پر ٹیکس’’ قرار دیا ہے۔سماجی و معاشی ماہر ڈاکٹر ارسلان کا کہنا ہے کہ بھرتی فیس سے ہونے والی بھاری آمدن خود اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روزگار کے مواقع ناکافی ہیں اور کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی مستقبل میں ایک سنگین سماجی چیلنج بن سکتی ہے۔