محتشم احتشام
پونچھ//قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں پونچھ سے رکنِ اسمبلی اجاز جان نے ایک بی جے پی رکنِ اسمبلی کے اْن ریمارکس پر سخت اور دوٹوک ردِعمل ظاہر کیا جو پہاڑی برادری کے ایس ٹی۔II درجہ حیثیت سے متعلق دئیے گئے تھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پہاڑی عوام کی ایک منفرد تہذیبی شناخت، زبان اور جغرافیائی وجود ہے، جو خصوصاً پیر پنجال کے خطے میں صدیوں سے قائم ہے۔جان نے کہاپہاڑی عوام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔ ہماری اپنی روایات، تاریخ اور قربانیاں ہیں۔ ایس ٹی۔II کا مطالبہ سیاست نہیں بلکہ انصاف اور آئینی حق کی جدوجہد ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پونچھ اور راجوری کے عوام نے دشوار گزار جغرافیہ، سرحدی حالات اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث دہائیوں تک پسماندگی جھیلی ہے، اس لئے انہیں مناسب شناخت، تحفظات اور ترقیاتی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رکنِ اسمبلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام برادریوں کے احترام کے ساتھ، پہاڑی عوام کی عزت، وقار اور شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پہاڑی برادری کے حقوق، ہمہ جہت ترقی اور آئینی شناخت کے لئے اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔اعجاز جان کا یہ بیان ایوان میں نہ صرف پہاڑی عوام کی اجتماعی آواز بن کر گونجا بلکہ خطے کے اْن محروم طبقات کے احساسات کی بھی ترجمانی کرتا دکھائی دیا جو برسوں سے انصاف اور مساوی حقوق کے منتظر ہیں۔