ڈاکٹر شگفتہ خالدی
بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے معمارِ قوم ہوتے ہیں، اس لیے ان کی صحیح تربیت نہ صرف والدین بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ بچے کی زندگی میں اساتذہ، ماحول اور معاشرہ بھی اثر انداز ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے کی بنیادی اور اصل تربیت والدین ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ والدین ہی وہ پہلے استاد ہوتے ہیں جو بچے کی شخصیت، عادات اور سوچ کی بنیاد رکھتے ہیں۔
بچے کی تربیت کا آغاز اس کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، جہاں وہ بولنا، سننا، سمجھنا اور برتاؤ کرنا سیکھتا ہے۔ والدین کا کردار بچے کی زندگی میں آئینے کی مانند ہوتا ہے، کیونکہ بچے وہی کچھ سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین سچائی، ایمانداری، محبت اور برداشت کا مظاہرہ کریں گے تو بچہ بھی انہی خوبیوں کو اپنائے گا۔
بچوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کو سب سے پہلے اپنے کردار کو بہتر بنانا ہوگا۔ والدین کا رویہ، بات چیت کا انداز، غصہ یا نرمی، حتیٰ کہ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے اعمال بھی بچے کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ بدتمیزی، جھوٹ، تشدد اور بے صبری جیسے رویے بچے کے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں اگر وہ یہ سب اپنے گھر کے ماحول میں دیکھے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ خود عملی نمونہ بنیں۔
تعلیم بھی بچوں کی تربیت کا ایک اہم ستون ہے، مگر صرف کتابی تعلیم کافی نہیں ہوتی۔ اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ بچوں کو سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، چھوٹوں سے محبت کرنے، وقت کی پابندی اور صفائی کی عادت سکھانا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر والدین ان باتوں پر شروع سے توجہ دیں تو بچہ ایک ذمہ دار اور مہذب شہری بن سکتا ہے۔
آج کے دور میں بچوں کی تربیت مزید چیلنجنگ ہو گئی ہے، کیونکہ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بچوں کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اگر والدین بچوں پر توجہ نہ دیں تو وہ آسانی سے غلط راستوں پر جا سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، ان کے دوستوں کے بارے میں جانیں اور ان سے دوستانہ انداز میں بات کریں تاکہ بچہ اپنے مسائل بلا جھجھک بیان کر سکے۔
محبت اور سختی میں توازن بھی تربیت کا ایک اہم اصول ہے۔ نہ حد سے زیادہ سختی اچھی ہے اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ نرمی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے محبت ضرور کریں، مگر ساتھ ہی نظم و ضبط بھی قائم رکھیں۔ غلطی پر نرمی سے سمجھانا، سزا دینے کے بجائے اصلاح کرنا، بچے کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور اس کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔
بچوں کی ذہنی اور جذباتی تربیت بھی بے حد ضروری ہے۔ اگر بچے کو گھر میں پیار، توجہ اور تحفظ ملے گا تو وہ خود کو محفوظ محسوس کرے گا اور اس کی شخصیت متوازن ہوگی۔ والدین کی لاپرواہی، جھگڑے اور عدم توجہ بچے کے ذہن پر منفی اثر ڈالتی ہے، جس کا نتیجہ ضد، چڑچڑاپن اور نافرمانی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ بچوں کی تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین اس ذمہ داری کو ایمانداری اور سنجیدگی سے نبھائیں تو ایک اچھا فرد، ایک اچھا خاندان اور ایک اچھا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ بچے کو صرف دنیاوی کامیابی ہی نہیں بلکہ اچھا انسان بنانا والدین کا اصل فرض ہے، کیونکہ ایک اچھا انسان ہی معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔