عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈران اور اراکینِ راجیہ سبھا و لوک سبھا چودھری محمد رمضان، میاں الطاف احمد، سجاد احمد کچلو اور شمی اوبرائے نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ کو عوام دوست اور ہر طبقے کے لئے سودمند قرار دیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یو ٹی نظام کی اڑچنوں، مسائل اور مشکلات کے باوجود اس نوعیت کا متوازن اور جامع بجٹ پیش کرنا وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی دوراندیشی، قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سیاحت، صنعت و حرفت، زراعت، باغبانی، صحت، تعلیم، خواتین اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع اور مختلف روزگار اسکیموں کو بھرپور انداز میں شامل کیا گیا ہے، جو جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔لیڈران نے کہا کہ بیشتر متعلقین نے اس بجٹ کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم بی جے پی، پی ڈی پی اور پی سی کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی ہے، جو حیران کن نہیں کیونکہ ان تینوں جماعتوں کے نظریات اور مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا مؤقف بھی یکساں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو تباہی اور بحرانی صورتحال سے دوچار کرنے میں انہی جماعتوں کا کردار رہا ہے اور دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کی راہ بھی انہی جماعتوں نے ہموار کی۔لیڈران نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو یکسر مسترد کیا ہے اور نیشنل کانفرنس پر اپنے غیر متزلزل اعتماد اور بھروسے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور منزل مقصود تک یہ کاروان جاری رہے گا۔