جاوید اقبال
مینڈھر//تعلیمی زون ہرنی کے تحت واقع گورنمنٹ ہائی اسکول کیری کانگڑھ کو ہائیر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیے جانے کا مطالبہ علاقہ مکینوں کی جانب سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ایک دور دراز اور پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں تعلیمی سہولیات پہلے ہی نہایت محدود ہیں، اس لئے اسکول کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔عوام کے مطابق اس وقت اسکول میں دو سو سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ علاقے میں تعلیم کا رجحان موجود ہے اور طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں میں سیکھنے کا جذبہ تو ہے، مگر بنیادی سہولیات کی کمی ان کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گورنمنٹ ہائی اسکول کیری کانگڑہ کو سن 1988 میں ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد سے آج تک اسے ہائیر سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس اہم مطالبے کو نظر انداز کیا جانا مقامی لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ہائیر سیکنڈری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دسویں جماعت کے بعد طلباء و طالبات کو مزید تعلیم کے لئے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستے، سفری اخراجات اور ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث اکثر طلباء اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، خاص طور پر طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کئی ہونہار بچیاں دسویں جماعت کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔بھاجپا منڈل پردھان بالاکوٹ منور خان اور معشوق خان ،ذاکٹر خان اور نیاز علی و دیگرمقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اسکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دے دیا جائے تو نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ علاقے میں شرحِ خواندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے والدین کا اعتماد بڑھے گا اور بچیوں کی تعلیم کو بھی فروغ ملے گا۔علاقہ مکینوں نے حکومتِ جموں و کشمیر، محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ طلباء کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ ہائی اسکول کیری کانگڑھ کو جلد از جلد ہائیر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم پورے علاقے کے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا اور دور افتادہ پہاڑی خطے کے بچوں کو مقامی سطح پر معیاری تعلیم کی سہولت میسر آ سکے گی۔