آصف حسین الکشمیری
دنیا آج جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، اس کی بنیاد صرف مشینوں، عمارتوں اور ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اعداد و شمار، حساب اور منطق پر قائم ہے۔ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس قوم نے ریاضی کو سمجھ لیا، اس نے ترقی کا راستہ پا لیا اور جس قوم نے ریاضی سے منہ موڑا، وہ وقت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ریاضی کو آج بھی ایک مشکل، خشک اور خوفناک مضمون سمجھا جاتا ہے اور یہی سوچ ہمارے بچوں کے مستقبل کو دھندلا کر رہی ہے۔ریاضی محض نمبروں اور فارمولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ سوچنے کا سلیقہ ہے۔ یہ ذہن کو ترتیب دیتی ہے، عقل کو جِلا بخشتی ہے اور انسان کو درست فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ جو بچہ ریاضی سمجھ لیتا ہے، وہ صرف امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے مسائل کو بھی بہتر انداز میں حل کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو بچہ ریاضی سے گھبراتا ہے، وہ عملی زندگی میں بھی اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔
آج کی دنیا میں ایسا کوئی شعبہ نہیں جہاں ریاضی کی ضرورت نہ ہو۔ تجارت ہو یا زراعت، طب ہو یا انجینئرنگ، بینکنگ ہو یا کمپیوٹر سائنس، معیشت ہو یا سیاست—ہر جگہ حساب، اندازہ اور تجزیہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ روزمرہ زندگی میں بازار سے سودا خریدنے، بجلی کے بل سمجھنے، موبائل پیکج منتخب کرنے اور گھریلو بجٹ بنانے تک سب کچھ ریاضی ہی کا مرہونِ منت ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنے بچوں کو ریاضی سے دور رکھ کر انہیں زندگی کی حقیقتوں سے بھی دور دھکیل رہے ہیں۔ہمارے گھروں میں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے:’’یہ بچہ ریاضی میں کمزور ہے، اسے کسی اور طرف لگا دو۔‘‘یہ جملہ بظاہر ہمدردی پر مبنی ہوتا ہے مگر درحقیقت بچے کے ذہن میں ناکامی کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ وہ خود کو کمزور اور دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی احساسِ کمتری آگے چل کر اس کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بچہ سیکھ سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ اسے درست طریقے سے سکھایا جائے۔
ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ریاضی کو سمجھنے کے بجائے رٹنے کا مضمون بنا دیا ہے۔ بچے فارمولے یاد تو کر لیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ ان کا عملی زندگی میں کیا استعمال ہے۔ امتحان ختم ہوتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس طرح ریاضی علم نہیں بلکہ خوف کی علامت بن جاتی ہے۔ خوف سے پیدا ہونے والی تعلیم کبھی مضبوط شخصیت نہیں بنا سکتی۔ریاضی دراصل ذہن کی ورزش ہے۔ جیسے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے، اسی طرح دماغ کو مضبوط رکھنے کے لیے ریاضی ضروری ہے۔ یہ انسان میں صبر، ترتیب اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ جو قوم اپنے بچوں کو ریاضی سے روشناس کراتی ہے، وہ انہیں صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ قیادت کے لیے تیار کرتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا بن گیا ہے، شعور حاصل کرنا نہیں۔ والدین بچے سے یہ نہیں پوچھتے کہ تم نے کیا سیکھا بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ کتنے نمبر آئے۔ ریاضی کو بھی نمبروں کے ترازو میں تولا جاتا ہے، حالانکہ یہ زندگی کو سمجھنے کا علم ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے نوجوان ڈگریاں تو لے لیتے ہیں مگر عملی میدان میں فیصلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔
اساتذہ کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اگر ریاضی کو ڈانٹ، سختی اور خوف کے ساتھ پڑھایا جائے گا تو بچے اس سے نفرت کریں گے۔ لیکن اگر اسے مثالوں، کھیلوں اور روزمرہ زندگی کے تجربات سے جوڑ کر سکھایا جائے تو یہی مضمون بچوں کے لیے دلچسپ بن سکتا ہے۔ ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو مشکل مضمون کو آسان بنا دے، نہ کہ آسان مضمون کو مشکل۔والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ گھروں میں بچوں کو ریاضی سے ڈرانے کے بجائے اس سے دوستی کرانی چاہیے۔ خریداری کے وقت حساب کروانا، کھیلوں میں نمبروں کا استعمال، وقت اور پیسے کا اندازہ لگانا،یہ سب طریقے بچے کو ریاضی کے قریب لا سکتے ہیں۔ اگر بچہ یہ سمجھ لے کہ ریاضی اس کی زندگی کا حصہ ہے تو وہ اسے بوجھ نہیں بلکہ ضرورت سمجھے گا۔
ریاضی کے بغیر جدید معیشت کا تصور ناممکن ہے، کیونکہ یہ لین دین، بجٹ سازی، منافع، خسارے اور ٹیکس کے تعین کی بنیاد ہے۔ ریاضی اعداد کے ذریعے مقداروں کے تعلقات کو سمجھاتی ہے، جو بینکنگ، تجارت اور سرمایہ کاری میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ریاضی کے بغیر معیشت کا نظام مفلوج ہو جائے گا اور ترقی کا پہیہ رک جائے گا۔ اگر ہماری نئی نسل ریاضی سے ناآشنا رہی تو وہ معاشی میدان میں بھی دوسروں کی محتاج بن کر رہ جائے گی۔آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور جدید سائنس سب ریاضی کے بغیر ناممکن ہیں۔ جو قوم ریاضی میں کمزور ہوگی، وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل سائنسدان، انجینئر، ماہرِ معیشت اور ٹیکنالوجی کے رہنما بنے تو ہمیں انہیں ریاضی سے دور نہیں بلکہ قریب کرنا ہوگا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم بچوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق نہیں بلکہ اپنے خوف کے مطابق راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر بچہ ریاضی میں کمزور ہو تو ہمیں اسے ترک کرنے کا مشورہ نہیں دینا چاہیے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہر بچہ سیکھنے کی قدرت رکھتا ہے، ناکامی بچے کی نہیں بلکہ ہمارے طریقۂ تعلیم کی ہوتی ہے۔
اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو ریاضی سے محروم رکھا تو کل ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو صرف صارف ہوگی، تخلیق کار نہیں۔ وہ دوسروں کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی استعمال تو کرے گی مگر خود کچھ نیا پیدا نہیں کر سکے گی۔ یہی وہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔معاشرے کی ترقی کا راستہ اسکولوں اور گھروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم خود کفیل ہو، باوقار ہو اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو تو ہمیں اپنے تعلیمی رویوں کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں ریاضی کو خوف نہیں بلکہ طاقت بنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ ریاضی سے غفلت صرف ایک مضمون سے غفلت نہیں بلکہ پوری نسل کو کمزور بنانے کے مترادف ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم بچوں کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں بلکہ سوچ کی چابی دیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ ریاضی مشکل نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا راستہ ہے۔ہمارے بچے ترقی کی معراج تک پہنچ سکتے ہیں اگر ہم انہیں ریاضی پڑھائیں اور صحیح معنوں میں سمجھائیں، بصورتِ دیگر عقل و فہم کو زوال لاحق ہو سکتا ہے اور ہم ایک ایسی نسل کھو بیٹھیں گے جو سوچنے کے بجائے صرف ماننے کی عادی ہوگی۔کیونکہ جو قوم اپنے بچوں کو ریاضی سکھاتی ہے، وہ دراصل انہیں مستقبل سونپتی ہے، اور جو قوم اس سے غفلت برتتی ہے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کو محرومی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔
(رابطہ ۔ 9797888975)