جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے جس کی شدت اعداد و شمار میں تو نمایاں ہے ہی، مگر اس کے اثرات ہر اس گھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں جہاں ایک تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ محدود روزگار کے مواقع اور نجی بھرتی ایجنسیوں کی جانب سے بے تحاشا رقم وصولی نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ستمبر 2025تک 3,61,146سے زائد نوجوان رجسٹرڈ بے روزگارتھے، جن میں2.08لاکھ کشمیر ڈویژن اور 1.52لاکھ جموں ڈویژن سے تھے۔ اس میں مردوں کی تعداد 2,33,845اور خواتین کی تعداد 1,27,301تھی ۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے ڈگریاں، پوسٹ گریجویشن اور پروفیشنل ڈگریاں حاصل کی ہیں، مگر ان کے ہاتھ میں صرف رجسٹریشن کی دستاویزیں اور بے یقینی کی نیندیں ہیں۔اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم اور روزگار کا تعلق ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا، — ڈگریاں روزگار کی ضمانت نہیں بلکہ ایک نا مکمل وعدہ بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ تعداد صرف رجسٹرڈ بے روزگاروں کی ہے، جب کہ غیر رجسٹرڈ نوجوانوں کو شامل کیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔
اگرچہ سرکاری سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.1فیصدہےلیکن تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنا خود ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن پھر بھی روزگار نہ ملنا بدتر مسئلہ ہے۔پی ایل ایف ایس رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 17.4فیصد تک پہنچ چکی ہے — جو ملک کی اوسط سے بہت زیادہ ہے۔ جب ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ بھی ہوں، مگر ان کے پاس کام نہ ہو، تنخواہ نہ ہو، مستقبل کی ضمانت نہ ہو تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ صرف تعلیم کا نظام ناکام ہے بلکہ یہ معاشی نظام بھی ناکام ہے۔
جموں و کشمیر کی معیشت بنیادی طور پر زراعت، سیاحت اور سرکاری شعبے پر انحصار کرتی ہے۔ نجی صنعت، مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سیکٹر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے بازار میں جگہ نہیں بنا پاتے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست میں ہر سال تقریباً 50سے 60ہزار نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں جب کہ سرکاری اور نجی شعبے میں دستیاب نوکریاں چند ہزار سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ نتیجتاً مقابلہ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، جہاں ایک اسامی کے لئے ہزاروں اور لاکھوںدرخواستیں موصول ہوتی ہیں۔یہی عدم توازن نوجوانوں کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی راستوں پر دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے، جہاں بھرتی ایجنسیاں ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔
روزگار کے محدود مواقع اب سرکار کیلئے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمر عبداللہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران نوکری کی درخواستوں کی فیس کے طور پر 48کروڑ روپے جمع کئے ہیں۔پیر کو اسمبلی میں پی ڈی پی ممبر اسمبلی وحید الرحمان پرہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے کہا کہ مجموعی طور پرجموںوکشمیر پبلک سروس کمیشن نے دو سال کی مدت کے دوران 17.90کروڑ روپے اور جموںوکشمیر سروسز سلیکشن بورڈنے 30.98کروڑ روپے درخواست کی فیس حاصل کی۔حالانکہ نیشنل کانفرنس نے اپنے چنائو منشور میں وعدہ کیاتھا کہ نوکریوںکیلئے درخواست فیس معاف کی جائے گی اور کوئی فیس نہیں لی جائے گی تاہم اس کے برعکس اب اس فیس کو آمدنی کے ذریعہ میں تبدیل کیاگیا ہے۔
کئی مطالعات نے نشاندہی کی ہے کہ تعلیمی اداروں میںپڑھائی اور عملی ہنر کے درمیان گہرا خلا موجود ہے — جہاں طلبہ صرف تھیوری پڑھتے ہیں مگر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر نہیں سیکھ پاتے۔اسی وجہ سے پڑھی لکھی نسل کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے، لیکن ملازمت کی واقعی طلب کے مطابق مہارت نہیں ہوتی۔
جموں و کشمیر کا نوجوان وہ طاقت ہے جو اس خطے کی ترقی، امن اور خوشحالی کا مستقبل طے کرے گا۔لیکن جب نوجوان کو ڈگریاں، امیدیں، خواب اور سرکاری وعدوں کے ساتھ ایک بے روزگار سرٹیفکیٹ ملتا ہے، تو یہ نظام خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہے؟ یا ایسا ہنر سیکھنا چاہیے جو بازار روزگار میں قیمت رکھتا ہو؟۔ جموں و کشمیر میں تعلیم اور روزگار کا بحران صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیںبلکہ ہر گھر، ہر نوجوان اور ہر والدین کی سکھی امیدوں کا ٹوٹ جانا ہے۔اگر ریاست اور معاشرہ ایک ساتھ نہیں سوچیں گے، تو وہ پوری نسل ناامیدی، ذہنی دباؤ، ہنر کی کمی اور دوستوں کی بیروزگاری پر زندگی گزارنےپر مجبور ہو جائے گی۔یہ وہ وقت ہے جب ہم صرف باتیں نہیں، بلکہ عملی پروگرام، تربیت، صنعتوں میں سرمایہ کاری، اور حقیقی روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ ڈگریاں بس کاغذی ٹکڑے نہ رہیں بلکہ وہ جوانوں کے ہاتھ میں مستقبل کی چابی بن جائیں۔
جموں و کشمیر کا نوجوان اس خطے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر محدود روزگار اور بھرتی ایجنسیوں کی لوٹ مار اسی طرح جاری رہی تو یہ سرمایہ مایوسی، ہجرت اور استحصال کی نذر ہو جائے گا۔اب وقت آ گیا ہے کہ اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کئے جائیں، تاکہ روزگار ایک خواب نہیں بلکہ ایک حق بن سکے، اور نوجوانوں کی مجبوری کسی کے منافع کا ذریعہ نہ بنے۔