سمت بھارگو
پونچھ//چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے اگلے علاقوں کے دورے کے دوران کامسرگاؤں کا بھی رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنے پرانے فوجی ساتھی صوبیدار (اعزازی کیپٹن) پرویز احمد (ریٹائرڈ) سے ملاقات کی۔ دونوں ماضی میں 18 جموں و کشمیر رائفلز میں ایک ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں، خصوصاً اس عرصے کے دوران جب جنرل دویدی نے 2002 سے 2005 تک اس بٹالین کی کمان سنبھالی تھی۔صوبیدار پرویز احمد نے مارچ 1991 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور مارچ 2019 میں 25 برس کی باوقار سروس کے بعد ریٹائر ہوئے۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے آپریشنل علاقوں کے ساتھ ساتھ تربیتی اداروں میں بھی انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف خصوصی کورسز میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث متعدد اعزازات حاصل کئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صوبیدار پرویز احمد نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔
آپریشن سندور کے دوران انہوں نے تعینات فوجی دستوں کی لاجسٹک معاونت اور مقامی سطح پر رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ علاقے سے واقفیت اور یونٹ کے ساتھ طویل وابستگی کی بنیاد پر انہوں نے کشیدہ حالات میں ذاتی خطرات کے باوجود مدد فراہم کی، جس پر فوج نے ان کی خدمات کو سراہا۔ان کی سماجی خدمات اور آپریشن سندور کے دوران تعاون کے اعتراف میں آرمی چیف نے انہیں دورے کے موقع پر ’ویٹرن اچیور ایوارڈ‘سے نوازا۔ اس موقع پر ان کے اہلِ خانہ، سابق فوجی اور مقامی باشندے بھی موجود تھے۔دورے کے دوران متعدد دیگر سابق فوجیوں اور مقامی شہریوں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، نے بھی آرمی چیف سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں خوشگوار اور غیر رسمی ماحول میں ہوئیں، جو سرحدی اضلاع جموں و کشمیر میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں، سابق اہلکاروں اور عام شہریوں کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔