ملک منظور
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نخریلا مگر چمکدار کشمیری اخروٹ ایک کوے کے ساتھ سیر کو نکلا۔ کوا آسمان میں قلابازیاں کھا رہا تھا کہ اچانک اخروٹ اس کی چونچ سے پھسلا اور دھڑام سے ایک میووں کی ٹوکری میں جا گرا۔ وہ بھی سیدھا ایک موٹے تازے انار کے سر پر!
انار چیخ اٹھا:
“اوئے ہوئے! یہ کس نے میرے سر پر پتھر دے مارا؟ میرا تو دانہ دانہ ہل گیا!”
” دوسرے پھلوں نے گھبرا کر کہا ” بم، بم ، بم ”
اخروٹ نے معصوم سی شکل بنا کر کہا:
“انار بھائی، نہ میں بم ہوں اور نہ پتھر،میں اخروٹ ہوں… وہ بھی کشمیری شریف، کاغذی خول والا! میری کھال تو دماغ جیسی جھری دار ہے، اینٹ جیسی سخت نہیں!”
انار سر سہلاتے ہوئے غصے سے بولا:
“شریف؟ تمہارا جسم تو ہتھوڑے سے بھی زیادہ سخت ہے! میرا سر تو گھنٹی بن گیا ہے ٹن ٹن !”
اخروٹ نے فخر سے سینہ تان کر کہا:
“بھائی، میں کشمیر کی حسین وادیوں سے آیا ہوں، جہاں برف پڑتی ہے۔ سوچا تھا اپنے ملک کو دیکھوں، مگر یہاں تو استقبال ہی دنگل والا ہو گیا!”
انار طنز سے بولا:
“کشمیر سے آئے ہو یا میرا جوس نکالنے؟”
اتنے میں انگوروں کا ایک جھنڈ بول اٹھا:
“شکر ہے ہمارے اوپر نہیں گرے، ورنہ ہمارا پورا خاندان انگور کا شربت بن جاتا!”
وہاں کھڑا ایک لال ڈیلیشیس سیب آئینہ دیکھ رہا تھا۔ بولا:
“اگر میرے لال گال پر گرتے تو اس پر کالا داغ پڑ جاتا۔ پھر کون خریدتا مجھے؟ میں تو مارکیٹ کا سپر اسٹار ہوں!”
سنترہ آہ بھرتے ہوئے بولا:
“بھائیو، میرے زخم تو چھلکے کے اندر چھپ جاتے ہیں۔ شکر ہے میرے اوپر نہیں گرے، ورنہ میرا وٹامن سی ہی بہہ جاتا!”
اتنے میں پنجابی آم بھی بول پڑا:
“یار، اگر مجھ پر گرتے تو میرا تو سارا گودا پھٹ جاتا! میں آخر پھلوں کا بادشاہ ہوں!”
سب پھل غصے میں اخروٹ پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی ٹھوکر مار رہا تھا، کوئی لڑھکا رہا تھا، کوئی چپٹا کرنے کی کوشش میں تھا۔ انگوروں نے زیادہ تاؤ دکھایا، سیب نے ناک پر حملہ کیا، انار کا پیٹ چکرانے لگا ۔
جب سب تھک ہار کر ہانپنے لگے تو اخروٹ قہقہہ لگا کر بولا:
“واہ بھائیو! کیا میٹھی پٹائی تھی! اور انگور بھائی، تمہارا رس تو بالکل فریش جوس ہے، مزے لے لے کر پی رہا ہوں۔ تم لوگوں نے تو مفت میں مجھے خوش کردیا !”
یہ سن کر سب کے ہوش اُڑ گئے۔
انگور روتے ہوئے بولے:
“ہائے! ہم تو پھٹ گئے اور یہ صاحب جوس پی رہے ہیں!”
سیب کراہتے ہوئے بولا:
“میرے گال میں اخروٹ کی ناک چبھ گئی ہے! اب تو میں داغدار لگ رہا ہوں!”
سنترہ ہنستے ہوئے بولا:
“شکر ہے کم از کم میرا چھلکا تو بچ گیا، ورنہ میں تو ننگا ہو جاتا!”
اخروٹ نے فلسفیانہ انداز میں کہا:
“بھائیو! تم سب جذبات میں بہہ گئے۔جوش میں ہوش رکھنا چاہئیے ۔غصہ کرنا حرام ہے ۔میں خشک میوہ ہوں، دماغ کے لیے؛ اسی لیے سخت اور جھری دار!”
سیب جھنجھلا کر بولا:
“اچھا جی، خشک میوہ ہو کر ہم رس داروں میں کیوں گھس آئے؟ یہاں سے نکلو، ورنہ دوبارہ پٹائی ہوگی!”
اخروٹ افسوس سے بولا:
“تم میرے اپنے ہو کر بھی ڈانٹ رہے ہو؟ ارے سیب بھائی، تم بھی تو کشمیر کی وادیوں سے آئے ہو نا؟ ”
سیب نے ناک سکیڑ کر کہا:
“جی نہیں! میں تو خالص امریکن ریڈ ڈیلیشیس ہوں، درآمد شدہ، ہائی کلاس!”
اخروٹ فوراً بولا:
“اسی لئے تو بے مروت اور مغرور ہو! دیسی کشمیری سیب تو نرم، خوشبودار اور میٹھے ہوتے ہیں، تم تو بس ہاتھی کے دانت جیسے نکلے!”
“ہا ہا ہا!”
انار، انگور اور سنترہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔
آم بھی ہنس پڑا:
“یار سیب، تم تو پناہ گزین نکلے! ہم تو دیسی ہیں، شفقت بھرے!”
سیب حیران ہو کر بولا:
“مجھ پر کیوں ہنس رہے ہو سب؟”
انار مسکرا کر بولا:
“دیسی سمجھے تھے تمہیں، پردیسی نکلے!”
سیب نے تلخ لہجے میں کہا ” تو کیا پردیسی پھل پھل نہیں ہوتے”
آم نے کہا
“پردیسی بھی پھل ہوتے ہیں لیکن اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔ اپنی مٹی کی خوشبو کا کوئی نعم البدل نہیں، بھائی!”
اتنے میں کیلا بھی آ پہنچا اور بولا:
“ارے، اخروٹ بھائی اگر تم مجھ پر گرتے تو میں پھسل کر سب کو گرا دیتا!”
سب زور زور سے ہنس پڑے۔
آخر میں سب نے اخروٹ کو گلے لگا لیا اور بولے:
“چلو بھائی، اب تو ہم سب ایک ہی ٹوکری کے پھل ہیں۔ آؤ، وطن کے بچوں کی تندرستی اور دماغ کی نشوونما کے لیے مل کر کام کریں تم دماغ، ہم دل!”
���
قصبہ کھُل کولگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163