عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر میں ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے حالیہ برسوں میں پالیسی سطح پر توجہ، بنیادی ڈھانچے کی مدد اور خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اور پارلیمنٹ میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت جموں و کشمیر کو 118 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق ۔ مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری راجیو رنجن سنگھ (للن سنگھ) نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ ماہی پروری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صلاحیت سازی اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو 2020-21سے 2024-25کے دوران مجموعی طور پر 11,850.39 لاکھ روپے مرکزی معاونت کے طور پر فراہم کیے گئے۔سال وار تفصیل کے مطابق 2020-21میں 5,006.63 لاکھ روپے، 2021-22میں 1,364.20 لاکھ روپے، 2022-23میں 2,020 لاکھ روپے، 2023-24میں 1,219.73 لاکھ روپے اور 2024-25 میں 2,239.83 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کو دی گئی یہ مالی امداد پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ملک گیر سطح پر کی جانے والی سرمایہ کاری کا حصہ ہے۔ مالی سال 2021-22سے 2024-25کے دوران ملک بھر میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے منصوبوں کے لیے 18,397.37 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جس میں مرکزی حصہ 8,124.84 کروڑ روپے رہا، جبکہ اب تک 4,977.28 کروڑ روپے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ ایجنسیوں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔پارلیمنٹ میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق اس اسکیم کے تحت کمزور اور محروم طبقات کو بھی خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔ قومی سطح پر درج فہرست ذاتوں کے لیے 553.40 کروڑ روپے اور درج فہرست قبائل کے لیے 519.21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیںگزشتہ چار برسوں کے دوران خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے 1,302.20 کروڑ روپے کی مرکزی لاگت سے ایسے منصوبے منظور کیے گئے، جن سے ملک بھر میں 95,426 خواتین مستفید ہوں گی۔