عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو امریکی حکومت کی طرف سے ہندوستانی اشیاء پر باہمی محصولات کو کم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے بہت سے برآمد کنندگان کو راحت ملے گی جو بڑھے ہوئے ٹیرف کے پیش نظر مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ ہندوستان اور امریکہ ایک تجارتی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت واشنگٹن ہندوستانی اشیاء پر باہمی ٹیرف کو موجودہ 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔یہ اعلان ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ امریکہ نے 27 اگست 2025 سے امریکی منڈیوں میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد بھاری ٹیرف لگا دیا ہے۔ یہ ٹیرف ہمارے لیے کافی بوجھ ثابت ہو رہے تھے، اور ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ٹیرف کیوں لگائے گئے تھے۔ امریکہ اس بات سے خوش نہیں تھا کہ ہم روس سے تیل خریدتے ہیں۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہندوستانی حکومت نے اب روس سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے، اور اس کی وجہ سے اب ہم پر ٹیرف نہیں لگائے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت روس سے تیل خریدنا بند کر دے تو یہ اچھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔تاہم، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت اب تیل کہاں سے حاصل کرے گی کہ اب وہ روس سے نہیں لے رہی ہے، اور کیا متبادل ذرائع سے خریداری کے نتیجے میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ عبداللہ نے کہا کہ اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔ٹیرف میں کمی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سے ہماری برآمدات کو فائدہ پہنچے گا، جو کہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ ہمارے بہت سے برآمد کنندگان کو اہم چیلنجز کا سامنا تھا، کچھ نے تو یہ بھی محسوس کیا کہ انہیں اپنے کاروبار کو بند کرنا پڑے گا۔ اب جب کہ ٹیرف کم کر دیے گئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان کے کاروبار دوبارہ ترقی کرنا شروع کر دیں گے۔