عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف پیش آنے والے حملوں اور ہراسانی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک تشویشناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔حالیہ واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو سلسلہ اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری پر مبینہ حملے سے شروع ہوا تھا، وہ اب ایک بزرگ کشمیری کی ہراسانی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ملزمان آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو نہایت سنگین قرار دیا اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اراکینِ پارلیمنٹ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاجموں و کشمیر کے ممبران پارلیمنٹ کہاں ہیں؟جنہیں ایسے حملوں کے معمول بنتے جانے پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے؟انہوں نے سیاسی مداخلت کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ راج دھرم کی پاسداری کے بجائے بعض ریاستی حکومتیں خاموشی سے ہجوم کے تشدد کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق نفرت کو سیاسی کامیابی کے ایک آسان ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاقانون کی حکمرانی کی جگہ خوف کی سیاست نے لے لی ہے، اور خبردار کیا کہ مسلسل عدم کارروائی سے جمہوری اداروں اور آئینی تحفظات پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔
ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتی ہراسانی پرممبران پارلیمنٹ کی خاموشی قابل ِ افسوس: محبوبہ مفتی