ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوسکا، سماجی حلقوں کا فوری بحالی اور قبضہ جات کے خاتمے کا مطالبہ
محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں واقع تاریخی پونچھ قلعہ، جو اپنی شاندار طرزِ تعمیر، قدرتی حسن اور صدیوں پر محیط تاریخ کے باعث پورے پیر پنچال خطے کی شناخت سمجھا جاتا ہے، اس وقت شدید عدم توجہی اور تجاوزات کے باعث خطرے میں ہے۔ کبھی یہ قلعہ مقامی حکمرانوں کی شان و شوکت کی علامت تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حالت ابتر ہوتی چلی گئی۔2005 کے تباہ کن زلزلے نے اس عظیم تاریخی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں قلعے کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ زلزلے کے بعد جو حصے محفوظ رہ گئے تھے، وہ بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث رفتہ رفتہ خستہ حالی کا شکار ہوتے گئے۔ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوگئی جب قلعے کے گرد و نواح میں غیر قانونی تجاوزات قائم ہونا شروع ہو گئیں۔مقامی ذرائع کے مطابق بعض افراد نے قلعے کے اطراف سرکاری اراضی پر قبضے جما لئے ہیں، جس سے نہ صرف اس تاریخی مقام کی اصل ہیئت متاثر ہوئی ہے بلکہ اس کی مکمل حفاظت پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کا ماننا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قلعے کے باقی ماندہ آثار بھی ناقابلِ واپسی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں واضح احکامات جاری کئے تھے کہ پونچھ قلعے کے ارد گرد قائم تمام غیر قانونی تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود آج تک مکمل طور پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔پیر پنجال ڈیولپمنٹ فورم کے چیئرمین اور معروف سماجی شخصیت مولوی فرید ملک نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ قلعہ ہماری تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شناخت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود تجاوزات کا برقرار رہنا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر غیر قانونی قبضے ختم نہ کئے گئے تو یہ تاریخی ورثہ ہمیشہ کے لئے مٹ سکتا ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کرتے ہوئے قلعے کے اطراف سے تجاوزات فوری طور پر ہٹائی جائیں اور قلعے کی مرمت و بحالی کے منصوبوں پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر پونچھ اشوک کمار شرما کی کوششوں سے قلعے کی مرمت اور بحالی کیلئے کچھ مالی وسائل منظور کیے گئے تھے، مگر عملی سطح پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔مورخین، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے مشترکہ طور پر زور دیا ہے کہ پونچھ قلعہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ خطے کی تاریخ کا زندہ باب ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے فوری، ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم ورثے کی شان و عظمت کو دیکھ سکیں۔