اشرف چراغ
کپوارہ//بیرون جموں و کشمیر کشمیری شال پھیری کرنے والوں کو ہراساں کرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعہ میں ہماچل پردیش میں کپوارہ سے تعلق رکھنے والے ایک شال پھیری محمد حسین گوجری ولد محمد حیات گوجری کو اتوار کی صبح کو ایک شر پسند نے اس وقت روک کر ہراساں کیا جب وہ شال پھیری کے لئے جارہا تھا ۔ شال پھیری کرنے والے کو ایک غنڈے نے روک اور انہیں سخت دھمکی دی بلکہ انہیں کہا گیا کہ آپ کے پاس اے کے 47رائفل بھی ہے ۔اس شال پھیری کرنے والے نے اس شر پسند کی منت سماجت بھی کہ وہ کئی سالو ں سے یہا ں شال پھیری کرتا ہے اور اس کے لئے انہیں مقامی پولیس تھانہ کا اجازت نامہ بھی ہے لیکن غنڈے نے ان کی کچھ نہیں سنی اور انہیں ڈرایا دھمکایا ۔بیرون ریاستوں میں کشمیری شال پھیری کرنے والو ں کے ساتھ اس قسم کی کاروائی سے ضلع کے لوگو ں میں سخت تشویش کی لہر دو ڈ گئی ہے ۔3روز قبل اترا کھنڈ میں اس قسم کی ایک کاروائی کے دوران کپوارہ سے ہی تعلق رکھنے والے ایک18سالہ شال پھیری کرنے والے نوجوان کو بے دردی سے پیٹا گیا جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیا دو ں میں ایک مقامی اسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے دا خل کیا ۔کشمیر میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی یہا ں کی اکثر آ بادی مختلف ریاستو ں میں مزدرور ی کے لئے جاتے ہیں تاہم زیادہ تر لوگ شال پھیری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں ۔ہماچل پردیش میں گزشتہ سال سے ہی کشمیری شال پھیری کرنے والو ں ہرا ساں کیا گیا جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بھی دائو پر لگ گیا ۔جمو ں و کشمیر سرکار اور عوامی نمائندو ں نے جب اس کی مذمت کی تو اس قسم کی کاروائیاں رک گئیں لیکن اترا کھنڈ اور ہریانہ میں شر پسند عنا صر نے کشمیری شال پھیری کرنے والوں کو ہراسا ںکیا ۔ ہماچل میں ایک اور شال پھیری کرنے والے کو ہرا ساں کرنے پر ضلع کے لوگو ں میں سخت تشویش پائی گئی اور لفٹنٹ گورنر سے فوری طور مداخلت کی اپیل کی ۔