عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو مبینہ طور پر کمزور کئے جانے کے خلاف کانگریس پارٹی نے ہفتہ کے روز راجوری میں ایک زوردار احتجاجی مہم کا آغاز کیا جسے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دیہی غریب عوام کے لیے زندگی کی لکیر سمجھی جانے والی اس اہم اسکیم کو بتدریج غیر مؤثر بنا رہی ہے۔احتجاجی مظاہرے میں جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (JKPCC) کے مبصر اور سابق وزیر جگ جیون لال اور سابق رکن اسمبلی ممتاز خان نمایاں طور پر موجود تھے۔
یہ احتجاج موجودہ ایم ایل اے راجوری افتخار احمد اور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک شرما کی قیادت میں منظم کیا گیا۔کانگریس کارکنان نے ڈاک بنگلہ راجوری سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے جن پر منریگا کے حق میں اور حکومت کی مبینہ غریب مخالف پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی کے دوران کارکنان نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ منریگا کے بجٹ اور روزگار کے دنوں میں کٹوتی بند کی جائے۔رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منریگا دیہی علاقوں میں بے روزگار افراد کیلئے سہارا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں فنڈز کی کمی، کام کی منظوری میں تاخیر اور مزدوروں کو ادائیگی میں رکاوٹوں نے اسکیم کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس صورتحال کے باعث ہزاروں دیہی خاندان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔احتجاج کے اختتام پر کانگریس وفد نے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک یادداشت ڈپٹی کمشنر راجوری ابھشیک شرما کے ذریعے پیش کی۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ منریگا کو مکمل طور پر بحال رکھا جائے، واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور اسکیم کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے۔اس احتجاجی مارچ میں دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھی گئی، جسے کانگریس نے منریگا کی موجودہ حالت پر عوامی ناراضگی کا واضح اظہار قرار دیا۔ پارٹی رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کئے گئے تو احتجاجی مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔