سمت بھارگو +عظمیٰ یاسمین
راجوری//سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (PMGSY) کے تحت ضلع راجوری میں 29.5 کروڑ روپے مالیت کے ایک بڑے سڑک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع دور دراز دیہات میں سڑک رابطے کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔تقریباً 12 کلو میٹر طویل اس سڑک کو راجوری کے ایل او سی بیلٹ میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سرحدی دیہات میں برسوں سے درپیش آمد و رفت کے مسائل میں نمایاں کمی آنے کی امید ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد کم از کم دس سرحدی دیہات کو براہِ راست راجوری ضلع ہیڈکوارٹر سے سڑک رابطہ حاصل ہوگا، جس سے ان کا موجودہ سرحدی سڑکوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔اس سڑک کو دفاعی اور سیکورٹی نقطہ نظر سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بہتر رابطہ نہ صرف عام شہریوں بلکہ سکیورٹی اداروں کے لئے بھی سہولت کا باعث بنے گا۔منصوبے کا باضابطہ آغاز رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے کیا۔ اس موقع پر ایم ایل اے راجوری افتخار احمد اور ایم ایل اے تھنہ منڈی مظفر اقبال خان بھی موجود تھے جبکہ متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں الطاف احمد نے عملدرآمد کرنے والی ایجنسی کو ہدایت دی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سڑک نہ صرف روزمرہ سفر کو آسان بنائے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں سماجی و معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔مقامی لوگوں نے اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایل او سی کے دیہات میں قابلِ اعتماد سڑک رابطے کا دیرینہ مطالبہ اب پورا ہوگا۔ منصوبے کے مطابق سڑک کا آغاز چلاس علاقے سے ہوگا اور یہ مختلف سرحدی بستیوں سے گزرتی ہوئی موجودہ بارڈر روڈ سے جڑ جائے گی۔اس سے قبل رتّال، بیسالی اور پرّن جیسے سرحدی دیہات کے مکینوں کو ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنے کے لئے بارڈر روڈ کے ذریعے کم از کم پندرہ کلو میٹر اضافی سفر طے کرنا پڑتا تھا، مگر نئی سڑک کی تکمیل کے بعد وہ براہِ راست اور کم فاصلے میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔قبل ازیں ڈاک بنگلہ راجوری کے ڈاکٹر راج کمار تھاپا میموریل کانفرنس ہال میں ایک تقریب کے دوران میاں الطاف احمد نے پی ایم جی ایس وائی کے تحت حال ہی میں مکمل ہونے والی سات سڑکوں کا افتتاح بھی کیا اور مزید چوبیس سڑک منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس تقریب میں ڈی ڈی سی چیئرمین راجوری ایڈوکیٹ نسیم لیاقت، ایم ایل اے تھنہ منڈی مظفر اقبال خان اور ایم ایل اے راجوری افتخار احمد بھی موجود تھے۔اپنے خطاب میں رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سڑکوں کا مضبوط نیٹ ورک کسی بھی علاقے کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، مگر راجوری کے کئی علاقے، حتیٰ کہ گنجان آباد بستیاں بھی، اب تک مناسب سڑک رابطے سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پی ایم جی ایس وائی کے تحت متعدد سڑک منصوبے ان کی مشاورت سے تجویز کیے گئے تھے جن میں سے بیشتر کو منظوری مل چکی ہے اور ان پر کام شروع ہو چکا ہے۔
کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی کی مخالفت بلاجواز، یہ رویہ ملک کو کمزور کرتا ہے:میاں الطاف
کشمیر یوں پر حملوں کی مذمت، وزیر داخلہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ ،سرحدوں پر امن کیلئے اجتماعی کردار پر زور
سمت بھارگو
راجوری//اننت ناگ–راجوری پارلیمانی حلقے سے رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے کہا ہے کہ کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی (NLU) کے قیام کی مخالفت کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں اور اس طرح کا رویہ ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے معاملے کو علاقائی تنازع کی شکل دینا انتہائی افسوسناک ہے۔راجوری کے دورے کے دوران میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں الطاف احمد نے کہا کہ نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام پر جاری تنازع غیر ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ’یہ افسوسناک ہے کہ ہم جموں اور سری نگر کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر رہے ہیں، حالانکہ اس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے‘۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر میں این ایل یو کے قیام پر اعتراض کرنے کے پیچھے کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام پورے خطے کی ترقی کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے اور اسے سیاسی یا علاقائی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ نے مشورہ دیا کہ اس معاملے کو تنازع بنانے کے بجائے حکومت ہند کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جانا چاہیے کہ جموں و کشمیر کے دونوں خطوں میں الگ الگ لا یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، تاکہ علاقائی توازن بھی برقرار رہے اور دونوں خطوں کے طلبہ کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے کہاکہ ’ماضی میں بھی کئی بڑے قومی تعلیمی اداروں کے دو یونٹ جموں و کشمیر میں قائم کئے گئے تاکہ علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اسی طرز پر ایک لا یونیورسٹی جموں صوبے میں اور دوسری کشمیر صوبے میں قائم کی جا سکتی ہے‘۔میاں الطاف احمد نے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر حملوں کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہایت تشویشناک ہیں اور ملک کی ہم آہنگ سماجی فضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’یہ واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں اور ہمارے ملک کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، جو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی احترام پر قائم ہے‘۔رکن پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات پر سخت موقف اختیار کرے اور قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کر کے کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر پائیدار امن نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو امن برقرار رکھنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ سکون کی زندگی گزار سکیں۔