زبانی ہی سہی آ جاؤ دے دوں
تمہارے دل پہ کوئی گھاؤ دے دوں
اسی منظر کا کب سے منتظر ہوں
چڑھے دریا تو اپنی ناؤ دے دوں
کشش کوشش کی پھر بھی کم نہ ہوگی
اگر کوشش کا اپنی واؤ دے دوں
خدا کو بھی جدا ہونا پڑے گا
قلم کو گر کوئی بہکاؤ دے دوں
رکو اس تختہء دار و رسن پر
ذرا مونچھوں کو اپنی تاؤ دے دوں
کسی کردار میں وسعت نہیں وہ
کہانی کو جو میں پھیلاؤ دے دوں
کروں تقسیم خود کو اس سے پہلے
ریاست دل کی تم کو آؤ دے دوں
مرے اندر مری دنیا ہے جب تک
میں کیسے تم کو بھگتی بھاؤ دے دوں
کوئی میری طرح جینا تو چاہے
میں اپنے سب ہنر سب داؤ دے دوں
غلاموں کی طرح مصداقؔ کیسے
میں اپنی فکر کو ٹھہرائو دے دوں
مصداقؔ اعظمی
پھولپور،اعظم گڑھ، یو پی
موبائل نمبر؛9451431700
زندگی کے پھول کھلنے سے پہلے
ہو گئے پژمرده ملنے سے پہلے
ہو کنول کا پھول،پاکیزه سراپا
ہم تھے دلدل تیرے ملنے سے پہلے
دل پہ چھایا اندھیروں کا پہرا
خواب تھے سب بند کھلنے سے پہلے
عمر بھر کانٹوں سے رشتہ رہا میرا
پھول سمجھے نہ تھے کھلنےسے پہلے
کیا جلاتا دل کا خاموش صحراء
راکھ تھا سب کچھ گو جلنےسے پہلے
نیند آنکھوں میں ابھی باقی تھی اور
صبح آ پہنچی تھی کھلنے سے پہلے
دل میں دیواریں ہی دیواریں تھیں اور
راستے گم تھے جو ملنے سے پہلے
کون پوچھے گا ترا حال یاورؔ
مر چکا ہے شوق جینے سے پہلے
یاور حبیب ڈار
بٹہ کوٹ ہندوارہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
اب پنکھ کٹے ہیں وہ یہ بھول گیا ہوگا
پھر اُڑنے کی کوشش میں وہ پنچھی گرا ہوگا
جب قوس قزح کوئی امبر پہ کھلا ہوگا
تب پنکھ کٹے پنچھی کا حال بُرا ہوگا
تب پنکھ کٹے پنچھی کا درد بڑھا ہوگا
ان اپنی اڑانوں کا جب ذکر سنا ہوگا
جلدی ہی شکاری کے وہ ہاتھ لگا ہوگا
یہ پنکھ کٹا پنجی زائد نہ جیا ہوگا
یہ پنکھ کٹا پنچھی اب اُڑ نہیں پاتا تو
کتنے ہی دنوں اس کو دانہ نہ ملا ہوگا
بس دیکھ رہا ہوگا اُڑتے ہوئےوہ سب کو
اب پنکھ کٹا پنچھی ٹولی سے جدا ہوگا
بچنے کو شکاری سے یہ پنکھ کٹا پنچھیؔ
کانٹوں کی گھنی جھاڑی کے بیچ چھپا ہوگا
ملنے کے لیے چڑیا سے پنکھ کٹا پنچھیؔ
برفیلی زمینوں پر بھی رینگ رہا ہوگا
اشکوں کے سمندر تب آنکھوں سے بہے ہونگے
جب پنکھ کٹا پنچھیؔ چڑیا سے ملا ہوگا
چوزے کو جو بارش میں ڈھک پایا نہ ہوگا تو
یہ پنکھ کٹا پنچھیؔ تب غم سے گھرا ہوگا
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
گُلوں کی غم نگاری کر رہا تھا
میں پھر اِک نظم جاری کر رہا تھا
اُسے گھر سے نکالا جا چکا تھا
میں بھی گُربہ شِعاری کر رہا تھا
پرندے گھونسلوں میں آ رہے تھے
میں اِک اِک کی شُماری کر رہا تھا
مِرے دُکھ روز بڑھتے جا رہے تھے
میں اُن کی پیش کاری کر رہا تھا
مِری بربادی تو طے تھی یقیناً
مگر میں جنگ جاری کر رہا تھا
مِری غزلیں مکمل ہو چکی تھیں
میں کچھ دِن نظم عاری کر رہا تھا
اِندرؔ سرازی
ڈوڈہ جموں کشمیر
موبائل نمبر؛7006658731
حسد ، جادو اور وسوسے کا علاج کر
کہ صدقہ ، نیاز ، جانور ذَبْح آج کر
ہو جائیں گی دور سر سے فوراً بھلائیں سب
ذرا اُڑتی چڑیوں میں تُو صدقہ اناج کر
تمہارے خلاف رچ رہیں ہیں جو سازشیں
تُو ان لوگوں کے خلاف اب احتجاج کر
روایات ، ریت ، رسمیں ، دستور سب بدل
جو ممکن ہو ، مرضی کے مطابق سماج کر
ذرا خود سے دور کر یہ کڑواہٹیں سب
حسیں زندگی ہے ، ٹھیک اپنا مزاج کر
سبھی جنتری یہ کہتی ہے،سال اچھا ہے
ستارے صحیح بیٹھے ہیں سارے ، راج کر
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر، کشمیر
میں برف سے پگھلے سفر پر چلا ہوں
صدا دریائوں سی روانی ملا ہوں
جو راہوں میں پتھر تھے سب پار کئے ہوں
میں کوہسار کے دامن میں اُترا چلا ہوں
کبھی غم کے نغمے، کبھی شاد گانے
گرا ہوں مگر ہر دفعہ پھر اُٹھا ہوں
کہیں چشمے جیسا، کہیں ندیوں سا ہوں
کبھی تھم کے رُکا ہوں، کبھی جھوم اُٹھا ہوں
دلِ صورت میں اک آرزو دب چکی تھی
اب اِس آرزو کی سانسوں میں بسا ہوں
صورتؔ، دل و جان! تو زمانوں میں چُھپا تھا
ابھی تو میں اپنے حوالوں میں بھرا ہوں
صورتؔ سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549