رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے سرحدی و دیہی گاؤں دبڑ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گاؤں کے لوگوںکا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے پانی کی سپلائی نہایت کم کر دی گئی ہے جس کے باعث لوگوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی افراد کے مطابق گاؤں میں پینے کے پانی کی فراہمی مہینے میں صرف دو یا تین مرتبہ کی جا رہی ہے، جو کسی بھی لحاظ سے کافی نہیں۔ حیرت انگیز طور پر حالیہ بارشوں کے باوجود پانی کی قلت برقرار ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں عموماً پانی کے ذرائع بہتر ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود محکمہ کی جانب سے سپلائی معمول پر نہیں لائی جا رہی۔مکینوںنے بتایا کہ پانی کے ٹینک موجود ہونے کے باوجود سپلائی نہ دینا متعلقہ ملازمین کی لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ٹینک بھرے ہوئے ہیں اور بجلی کی وولٹیج بھی درست ہے تو پھر پانی کی فراہمی میں رکاوٹ کیوں ہے، اس بارے میں انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا۔
علاقہ مکینوں نے شکایت کی کہ ایک یا دو بار پانی ملنے کے بعد انہیں اگلے کئی دن شدید مشکلات میں گزارنے پڑتے ہیں۔ خواتین کو گھریلو کام کاج کے لئے دور دراز چشموں یا نجی ذرائع سے پانی لانا پڑتا ہے، جبکہ بزرگ اور بچے بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری مداخلت کر کے گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی باقاعدہ سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صاف پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے اور اس کی عدم دستیابی صحت کے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔اس سلسلے میں جب محکمہ پی ایچ ای کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کی جانچ کریں گے۔ ان کے مطابق متعلقہ جونیئر انجینئر سے دریافت کیا جائے گا کہ گاؤں دھبڑ میں پانی کی سپلائی کم کیوں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پانی کی فراہمی کو معمول پر لانے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں گی۔علاقہ مکینوں کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں گے تاکہ گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی قلت کا خاتمہ ہو سکے اور عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔