سمت بھارگو
راجوری//جموں اور سرینگر کے درمیان بین الصوبائی زمینی رابطے کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے تذویراتی طور پر نہایت اہم مغل روڈپر عروجِ سرما کے دوران پہلی بار برف ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔روایتی طور پر مغل روڈ ہر سال شدید برف باری کے باعث چار سے چھ ماہ تک بند رہتی تھی اور اس دوران کسی قسم کی برف صاف کرنے کی سرگرمی انجام نہیں دی جاتی تھی۔ عام طور پر سڑک کی بحالی کا کام موسمِ گرما کے آغاز کے بعد ہی شروع کیا جاتا تھا۔تقریباً 90 کلو میٹر طویل مغل روڈ کو غیر معمولی عوامی اور تذویراتی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ جموں خطے کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کو کشمیر کے ضلع شوپیان سے جوڑتی ہے اور جموں۔سری نگر قومی شاہراہ کا ایک اہم متبادل راستہ ہے۔پیر کی گلی کے پہاڑی سلسلے سے گزرنے والی یہ سڑک انتہائی دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقوں سے ہو کر گزرتی ہے، جہاں موسمِ سرما میں شدید سے شدید ترین برف باری ہوتی ہے، جس کے باعث سڑک طویل مدت کے لیے بند رہتی ہے۔حال ہی میں مغل روڈ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بارڈر روڈز آرگنائزیشن کو سونپی گئی ہے، جبکہ اس سڑک کو نئی منظور شدہ قومی شاہراہ این ایچ 701۔اے میں شامل کیا گیا ہے۔ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے تحت بی آر او نے اب موسمِ سرما کے دوران ہی برف ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی آر او حکام کے مطابق جدید سنو کٹر مشینیں تعینات کر دی گئی ہیں جو دن رات کام کر رہی ہیں۔حکام نے بتایا کہ برف صاف کرنے کا کام دونوں اطراف سے بیک وقت جاری ہے۔ کشمیر کے شوپیان کی جانب سےپروجیکٹ بیکن جبکہ راجوری۔پونچھ کی جانب سےپروجیکٹ سمپرک کے تحت کارروائی انجام دی جا رہی ہے۔بی آر او حکام کے مطابق اگر موسم سازگار رہا تو آئندہ 10سے 12دنوں میں برف ہٹانے کا کام مکمل ہونے کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد سڑک کو جلد از جلد قابلِ آمد و رفت بنانا اور جموں و کشمیر میں زمینی رابطے کو نمایاں طور پر بہتر کرنا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہوگا کہ مغل روڈ کو موسمِ سرما کے عین درمیان بحال کیا جائے گا، جس سے راجوری اور پونچھ کے عوام کو خاطر خواہ راحت ملے گی، جبکہ خطے میں تذویراتی اور لاجسٹک رابطے بھی مزید مضبوط ہوں گے۔