یو این ایس
سرینگر//جموں و کشمیر کے بجلی شعبے نے مالی سال 2025-26کے دوران دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 3637 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں تقریباً 395 کروڑ روپے (عارضی تخمینہ) کی وصولی کی گئی، جو ماہانہ سطح پر آمدنی میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 تک مجموعی وصولی 3208.71 کروڑ روپے تھی جبکہ نومبر کے دوران تقریباً 385.69 کروڑ روپے جمع کیے گئے تھے۔ تاہم آمدنی میں اس بہتری کے باوجود بجلی کا شعبہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور مالی سال 2025-26 کے لیے 4200 کروڑ روپے سے زائد خسارے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق اس بڑھتے ہوئے خسارے کی بنیادی وجوہات میں بجلی کی خریداری پر بڑھتی لاگت، بیرونی ذرائع سے بجلی پر انحصار اور ترسیل و تقسیم کے بھاری نقصانات شامل ہیں۔
مالی سال 2025-26کے لیے بجلی خریداری اور ترسیل کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 5924.15 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 5620.88 کروڑ روپے تھی، اور یہی لاگت شعبے کی کل آمدنی کی ضرورت کا تقریباً 87 فیصد بنتی ہے۔سرکاری اندازوں کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے بجلی شعبے کی مجموعی آمدنی کی ضرورت 6827.18 کروڑ روپے ہے، جبکہ موجودہ ٹیرف کے تحت ممکنہ وصولی، حتیٰ کہ 93 فیصد کلیکشن ایفیشنسی فرض کرنے کے باوجود، صرف 2688.99 کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح مجموعی مالی خلا تقریباً 4136.03 کروڑ روپے بنتا ہے، جسے حکام ایک سنگین تشویش قرار دے رہے ہیں۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بجلی شعبے کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بلند سطح کے ترسیلی و فنی نقصانات ہیں، جو مالی سال 2025-26 میں بھی صرف معمولی کمی کے بعد 46 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے، جو قومی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 100 یونٹ بجلی میں سے صرف تقریباً 54 یونٹس کی بلنگ اور وصولی ممکن ہو پاتی ہے۔یو این ایس کے مطابق مالی دباؤ کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کٹوتی کا بھی سامنا ہے۔ حکام کے مطابق جن علاقوں میں لاسز 40 فیصد سے زیادہ ہیں وہاں یومیہ چھ گھنٹے کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ 15 سے 40 فیصد لاسز والے علاقوں میں ساڑھے چار گھنٹے کی کٹوتی نافذ ہے۔ تاہم کشمیر کے 83 ایسے فیڈرز جہاں مکمل میٹرنگ ہے اور لاسز صفر سے 15 فیصد کے درمیان ہیں، انہیں کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔سخت سردیوں کے باعث بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ کشمیر میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 2400 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ موجودہ نظام صرف 1800 سے 1900 میگاواٹ کی فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طلب اور رسد کے اس فرق کو پورا کرنے کے لیے محکمہ بجلی کو تقریباً 3000 میگاواٹ بجلی درآمد کرنا پڑ رہی ہے، جس سے مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔