جاوید اقبال
مینڈھر // بس اڈہ مینڈھر میں سومو گاڑیوں کو ہٹائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لئے اٹھایا گیا تھا، وہیں اس فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی بدنظمی نے شہریوں کو شدید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ سومو گاڑیوں کی منتقلی کے فوراً بعد مختلف افراد نے اپنی پرائیویٹ گاڑیاں بس اڈہ کے اندر کھڑی کرنا شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں بس اڈہ عملاً ایک غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق بس اڈہ جو کہ مسافروں کی سہولت اور عوامی آمد و رفت کے لئے مخصوص تھا، اب پرائیویٹ گاڑیوں کے بے ہنگم قبضے کی وجہ سے اپنی اصل حیثیت کھو چکا ہے۔ دن بھر گاڑیوں کی بے ترتیب آمد و رفت اور پارکنگ کے باعث شدید ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ نہ صرف بڑی گاڑیوں بلکہ موٹر سائیکل سواروں کو بھی گزرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔راہگیروں کا کہنا ہے کہ بس اڈہ کے اندر پیدل چلنا بھی اب کسی امتحان سے کم نہیں۔
بزرگ افراد، خواتین اور اسکول و کالج جانے والے طلباء کو خاص طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مقامات پر گاڑیاں اس طرح کھڑی کی جاتی ہیں کہ پیدل گزرنے کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معمولی سی غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ بس اڈہ کے اندر ہر وقت بے ہنگم رش رہتا ہے۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس ساری صورتحال پر پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ گاڑی مالکان کھلے عام قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، لیکن متعلقہ محکمے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر ابتدا میں ہی سختی کی جاتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔دکانداروں نے بھی شکایت کی ہے کہ رش اور بدنظمی کے باعث کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ گاہک بس اڈہ کے قریب آنے سے کتراتے ہیں کیونکہ پارکنگ اور ٹریفک جام کے مسئلے نے علاقے کو مستقل افراتفری کا شکار بنا دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی نے ایک عوامی سہولت کو عوام کے لئے ہی عذاب بنا دیا ہے۔شہریوں، سماجی کارکنوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے پولیس اور سول انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بس اڈہ کو پرائیویٹ گاڑیوں سے خالی کروایا جائے۔ غیر قانونی پارکنگ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور بس اڈہ کے اندر باقاعدہ ٹریفک پلان نافذ کیا جائے تاکہ گاڑیوں کی آمد و رفت منظم ہو سکے۔عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بس اڈہ کو اس کے اصل مقصد یعنی مسافروں کی سہولت کے لئے بحال کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے سنجیدگی اور فوری اقدامات نہ کئے تو نہ صرف ٹریفک مسائل بڑھیں گے بلکہ کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ لوگوں کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل انتظامیہ کی بروقت، مؤثر اور سنجیدہ مداخلت ہے تاکہ علاقے میں ٹریفک کی روانی بحال ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔