عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر ٹریڈ الائنس کے ایک وفد نے بدھ کو صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ سے ملاقات کی اور سرینگر میں تاجروں کو درپیش مختلف اہم مسائل سے آگاہ کیا۔وفد کی قیادت کے ٹی اے کے صدر اعجازشہدار کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے ڈویژنل کمشنر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پرانے حبہ کدل پل کو لائٹ موٹر وہیکلز کیلئے قابل استعمال بنانے کی ہدایت دی۔ وفد نے بتایا کہ پل کی طویل بندش کے باعث علاقے میں تقریباً 400کاروباری ادارے شدید متاثر ہوئے اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ وفد نے انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پل کو مکمل طور پر قابلِ آمد و رفت بنانے کیلئے باقی ماندہ کام کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ وفد کا کہنا تھا کہ مزید تاخیر سے نہ صرف تاجر بلکہ عام مسافر بھی متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ پل علاقے کی تجارت اور رابطہ کاری کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے کام کو واضح ٹائم لائن کے ساتھ جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہیے۔ملاقات کے دوران کے ٹی اے وفد نے رام باغ سے نٹی پورہ چوک تک نصب کیے گئے ڈیوائیڈرز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وفد نے کہا کہ ب نڈ سائیڈ سے متبادل سڑک پہلے ہی موجود ہے، اس لیے اس پوری سڑک پر مسلسل ڈیوائیڈرز کی کوئی فوری ضرورت نہیں۔ ان ڈیوائیڈرز کی وجہ سے بازاروں تک رسائی محدود ہو گئی ہے، سامان کی نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے اور گاہکوں کی آمد میں کمی آئی ہے، جس سے تجارت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔وفد نے مطالبہ کیا کہ ڈیوائیڈرز کو ہٹایا جائے یا انہیں مناسب انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ ٹریفک کا بہائو بھی برقرار رہے اور تجارتی سرگرمیوں میں آسانی بھی پیدا ہو۔