عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی //مرکزی بجٹ 27-2026 کے پیش ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔ صنعتی تنظیموں کی مانگ ہے کہ ایم ایس ایم ای، مینوفیکچرنگ، گرین انرجی، مصنوعی ذہانت اور برآمدات کو فروغ دیا جائے اور اس کے لیے تیز جی ایس ٹی ریفنڈ اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین معیشت نے مزید بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دیہی طلب اور پائیدار ترقی پر زور دے کر ہندوستان کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو جیسے جیسے بجٹ کا دن قریب آتا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔ 2010 سے 2022 کے دوران بجٹ سے پہلے مارکیٹ اکثر مندی کے ساتھ کاروبار کرتی رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تاہم، بجٹ کے بعد مارکیٹ میں اکثر بحالی بھی دیکھی جاتی ہے۔
یہ رجحان حالیہ برسوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ پچھلے 5 سالوں میں سے 4 سال بجٹ سے پہلے والے مہینے میں نِفٹی مندی میں رہا، جس میں جنوری 2025 کی مندی بھی شامل ہے۔ جے ایم فائنانشیل سروسیز کے ٹیکنیکل اور ڈیرویٹیو ریسرچ کے سربراہ راہل شرما نے کہا کہ یونین بجٹ 2026 سے توقع ہے کہ حکومت مالی توازن برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔ ساتھ ہی، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیز جیسے عالمی دبا کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق بجٹ میں انفراسٹرکچر، دفاع اور ریلوے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور ہو سکتا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔ دفاعی بجٹ بڑھنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ بجٹ والے دن مارکیٹ میں شدید اتار چڑھا رہ سکتا ہے۔ اگر بجٹ میں توقع کے مطابق راحت نہ ملی یا مالی اہداف خراب ہوئے، تو فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سود کی شرحیں بڑھ سکتی ہیں اور مارکیٹ میں پیسے کی قلت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، روپے میں اتار چڑھا اور عالمی تجارت میں رکاوٹ بھی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ملک میں پالیسیوں کے نفاذ میں تاخیر سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی انتباہ دیا کہ اسٹاک مارکیٹ کی زیادہ قیمتیں، ایف آئی آئی کی فروخت اور اے آئی ببل کا پھٹنا کچھ اضافی رکاوٹیں ہیں جو اس سال نِفٹی کی 29 ہزار کی سطح کی ریلی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ بجٹ کے بعد صورتحال واضح ہونے تک کچھ نقدی محفوظ رکھیں اور دفاع اور سرکاری بینکوں جیسے منتخب شعبوں پر توجہ دیں۔ دریں اثنا، کیر ایج ریٹنگز کا اندازہ ہے کہ 2026 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد رہے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 2027 میں مالی خسارہ 2.4 سے 3.4 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ اس دوران حکومت کا کل قرض 161.7 لاکھ کروڑ روپے اور خالص قرض 51.2 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے۔