عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے قائدین اور سینئر کارکنان نے کل یوم جمہوریہ کے موقعے پر پارٹی ہیڈ کوارٹرز سرینگر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے ترنگا لہرایا۔اس موقعے پر انہوں نے صحافیوں کے متعدد سوالات کا جواب دیا۔ انہوں نے جموں خطہ کی علیحدگی کے مطالبے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس طرح کے مطالبات گزشتہ 75 سالوں سے کئے جارہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں خطوں یعنی جموں اور وادی کی اپنی اپنی شکایات ہیں۔ مرکزی حکومت کو ان شکایات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے موثر اور منصفانہ اقدامات کرنے چاہیں۔ دونوں خطے برابر ہیں اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا، بدقسمتی سے، بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے جموں کو فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ اس کے جواب میں، این سی نے بھی وادی میں ایسا ہی طریقہ اپنایا۔
مذہبی خطوط پر اس پولرائزیشن نے جموں اور کشمیر کے سماجی اور سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچایا۔نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے عام معافی ضروری ہے، ہمیں مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں معاشرے کے تمام طبقات شامل ہوں۔ ایسے قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں اور انہیں قومی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔زرخیز زمینوں اور جنگلوں کے بیچوں بیچ ریلوے لائن بچھانے پر عوامی ناراضگی پربخاری نے کہا کہ اس مسئلے پر میں وزیر اعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔ منتخب حکومت کی کارکردگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں الطاف بخاری نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکمران جماعت ان وعدوں کو پورا کرے جن کی بنیاد پر اسے عوامی مینڈیٹ ملا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اپنے تمام انتخابی وعدوں کو پورا کرے گی۔ ہم تقریبا 65000 یومیہ اجرت والوں کو مستقل کئے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم ابھی بھی ایک لاکھ نوکریوں کی فراہمی کے حکمران جماعت کے وعدے کے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔