یو این ایس
سرینگر//پٹیالہ ہاؤس کورٹ دہلی نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے بارہمولہ حلقہ سے منتخب رکن پارلیمان انجینئر رشید کو تحویل پیرول منظور کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ کے آئندہ بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ یہ حکم ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے جاری کیا، جس کے تحت انجینئر رشید کو 28 جنوری سے شروع ہونے والے لوک سبھا کے بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت ہوگی، تاہم وہ اس دوران بھی عدالتی تحویل میں رہیں گے اور سیکیورٹی حصار میں پارلیمنٹ لائے اور واپس جیل منتقل کیے جائیں گے۔عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ دورانِ تحویل پیرول سفر اور سیکیورٹی اخراجات کون برداشت کرے گا، اس کا فیصلہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔واضح رہے کہ نومبر 2025 میں دہلی ہائی کورٹ نے انجینئر رشید کی اس درخواست پر منقسم فیصلہ دیا تھا جس میں انہوں نے پارلیمنٹ آمد و رفت کے اخراجات، بالخصوص پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کی رقم ادا کرنے کی شرط کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس وویک چودھری نے درخواست مسترد کی جبکہ جسٹس انوپ جے بھمبانی نے اسے منظور کیا، جس کے بعد معاملہ چیف جسٹس ڈی کے اْپادھیائے کو مزید ہدایات کے لیے بھیجا گیا۔انجینئر رشید کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے پر بھاری سیکیورٹی اخراجات عائد کرنا دراصل اسے اپنے حلقے کی نمائندگی سے روکنے کے مترادف ہے۔ وکیل نے کہا کہ رشید معقول اخراجات دینے کے لیے تیار ہیں لیکن پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دہلی جیل قوانین کے دائرے میں نہیں آتیں۔دوسری جانب دہلی پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اخراجات سیکیورٹی، لاجسٹکس اور تعیناتی سے متعلق ہیں جو ایک زیرِ حراست رکن پارلیمان کو پارلیمنٹ لانے کیلئے ضروری ہیں۔