اختر معراج
لالچ ایک ایسی عفونت ہے جسکی بدبو نہ کبھی گئی تھی اور نہ جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ روز بہ روز یہ بدبو پھیلتی جا رہی تھی اور دل گھِن سے بھرنے لگا تھا۔
’’قادر صاحب، یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘‘
اشفاق احمد نے ضبط کے ساتھ کہا،
’’آپ کی اپنی تین بیٹیاں ہیں، ذرا ان کے بارے میں بھی سوچ لیجیے۔ اس گھر کو آخر ہو کیا گیا ہے؟‘‘
دیواریں تک چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھیں مگر قادر صاحب کے کانوں پر جیسے جوں تک نہ رینگتی تھی۔
قادر نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۔۔۔ سوزنی ٹوپی سر سے اتار کر کھڑکی کے دریچے پر رکھ لی
’’جہیز مانگنا کون سا گناہ ہے؟‘‘
وہ بے نیازی سے بولے،
’’بری خصلتیں تو سب میں ہوتی ہیں۔‘‘
اشفاق نے بے بسی سے سر جھکاتے ہوئے جھکا لیا۔
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد دھیمی آواز میں بولا
’’خیر… آپ سے بات کرنا فضول ہے۔‘‘
بھابھی بھی کسی سے کم نہ تھیں۔ لالچ میں وہ پورے قد کے ساتھ قادر کا ساتھ دیتی تھیں۔ غیرت نام کی کوئی شے ان کے ہاں دکھائی نہ دیتی۔ دونوں میاں بیوی جیسے پورے گھر کو نگل جانا چاہتے ہوں۔
قادر غصے میں اٹھے اور گھر سے باہر نکل گئے۔
اس نے لکڑی کے منقش دروازے کو زور سے بند کیا جیسے وہ کسی دشمن سے مقابلہ پر آمادہ ہو۔
اشفاق احمد پگڈنڈی پکڑ کر لوگوں کی نظروں سے چھپ کر چلنے لگا ۔
جیسے کسی بڑے عذاب کا مرتکب ہواہو۔۔ جب گھر پہنچے تو آنکھوں میں آنسو ایسے اُمڈ آئے جیسے سمندر بہہ نکلا ہو۔
’’یا اللہ، یہ کیسا فیصلہ ہے تیرا؟ بیٹیوں کے نصیب ایسے کیوں؟‘‘
وہ سسک پڑے،
’’خدا کرے کسی بیٹی کے حصے میں قادر صاحب جیسا گھر نہ آئے۔‘‘
اشفاق کی بیوی نسیما گھر کے بوسیدہ دالان سے خاموشی سے باہر نکل آئی۔
’’سمجھ نہیں آتا اس سماج کا کیا بنے گا۔ یہاں بیٹیوں کا کوئی نہیں ہوتا۔‘‘
اسی پریشانی میں نسیما بازار جانے کا بہانہ بنا کر فقیر شاہ کی درگاہ جا پہنچی۔ اسکا پختہ یقین تھا کہ درگاہ سے آج تک کوئی بھی نامراد نہیں لوٹا ہے۔اس نے اپنے سیاہ رنگ کے دوپٹے سے ایک دھاگا نکال کر درگاہ کی لوہے کی زنجیر پر باندھ دیا۔ زنجیر مختلف رنگوں کے دھاگوں سے ایک رنگا رنگی کا منظر پیش کررہی تھی۔ مزار پر سر رکھ کروہ زار و قطار رونے لگی۔
’’اے اللہ! بیٹیوں کا نصیب اچھا کر دے۔‘‘
بسیرا کے رشتے کی باتیں چل رہی تھیں، مگر دل کا خوف کم نہ ہوتا تھا۔
’’اشفاق، کیا ہماری بیٹی کا نکاح ہو بھی پائے گا؟‘‘
اشفاق نے دلاسہ دیا،
’’اللہ بہتر کرے گا، ہماری بیٹی کی قسمت اچھی ہے۔‘‘
کچھ دن بعد حفیظ بھائی رشتہ لے کر آئے اور بسیرا کا رشتہ طے پا گیا۔
یہ خبر سن کر قادر صاحب طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آن دھمکے۔
’’کیا بات ہے اشفاق بھائی! بیٹی کا رشتہ پکا ہو گیا؟ جہیز میں کیا دینے کا ارادہ ہے؟‘‘
نسیما نے دو ٹوک جواب دیا،
’’ہمارے گھر میں لالچ کی بو کم ہے۔ بیٹی کا نصیب اچھا ہو، یہی بہت ہے۔ آپ ذرا اپنے گھر کی فکر کیجیے، تین بیٹیاں ہیں آپ کی بھی۔‘‘
قادر صاحب تلخ ہو گئے،
’’خالی ہاتھ سسرال نہیں بھیجنا، ورنہ پچھتاؤ گے!‘‘
نسیما نے سکون سے کہا،
’’راستے سے پتھر اس لئے اٹھائے جاتے ہیں کہ پاؤں نہ پھسلے۔ اتنی بری قسمت نہیں ہے میری بیٹی کی ، جتنی میں انسان خوش رہ سکے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔
ایک سال بعد بسیرا کی شادی ہو گئی اور ادھر قادر کا گھر بکھرنے لگا۔ بڑے بیٹے کی شادی میں چھوٹی بیٹی کو پاگل پن کے دورے پڑنے لگے۔ دوسری بیٹی کا نکاح ہو گیا مگر فساد روز کا معمول بن گیا۔ اس کے باوجود قادر اور اس کی بیگم کبھی نہیں سدھر گئے۔
آخر چھوٹا بیٹا عرفان بھی بیرونِ شہر سے لوٹا۔ شادی کی بات چلی تو سب حیران رہ گئے کیونکہ سننے میں آیا تھا کہ عرفان پہلے ہی اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کر چکا ہے۔
’’کچھ تو بات ہے…‘‘
لوگ سرگوشیاں کرنے لگے،
’’یہ لڑکی بھی شاید چھوڑ دی جائے گی۔‘‘
نسیما یہ سب دیکھ کر زیرِ لب بولی،
’’اندھے کے کندھے پر لنگڑا ہے، اشفاق ٹھیک ہی کہتا تھا۔ قادر صاحب سب جانتے ہیں، پھر بھی انجان بنے پھرتے ہیں۔‘‘
اکتوبر کی ایک اداس شام کو وہ خود سے کہنے لگی،
’’ہمیں کیا… اپنی بیٹی کی فکر کافی ہے۔‘‘
یہ وہ گھر تھا جہاں سب زندہ تھے، مگر بصیرت مر چکی تھی۔
لالچ نے سب کو اندھا اور لنگڑا بنا دیا تھا، اور وہ اندھا لنگڑے کے کندھے پر ٹکا ہوا تھا۔
آخرکار عرفان نے بھی اپنی پسند کی راہ چن لی۔
اس نے گھر نہیں چھوڑا مگر اس نے لالچ سے بندھی زنجیر توڑی۔ دروازہ بند ہواتو کسی نے آواز نہ دی، کیونکہ اس گھر میںآوازیں بہت پہلے مر چکی تھیں۔
لالچ کی وہی بو جس پر کبھی فخر کیا جاتا تھا، اب راکھ میں بدل چکی تھی۔گھر کھڑا تھا، مگر بنیادیں جل چکی تھیں۔
جو طنز بن کر ہنستے تھے،جو دوسروں کی بےبسی پر اپنا قد ناپتے تھے، آج ان کی خاموشی سب سے بڑا نوحہ بن گئی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہاں نہ اندھا تھا، نہ لنگڑا،بلکہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دیکھنے سے انکار اور چلنے سے پہلے ہی جھکناسیکھ لیا تھا۔ اور یہی ان کی سب سے بڑی معذوری تھی۔
���
سرینگر، موبائل نمبر؛7780819606