رب کی جب کر لیں عبادت دل کو ملتا ہے قرار
جیسے اک اُجڑے چمن میں لوٹ آتی ہے بہار
جو کرے ہردم سخاوت اور احسان و کرم
بس اسی انساں کا ہر عالم میں ہوگا بیڑا پار
بغض کینہ اور حسد کی چار سو ہے بوئے بد
ہو مہک سے پیار کی پھر ساری دنیا مشکبار
بیج بوتے نفرتوں کا جو بھی ہیں انسان وہ
مول لیتے ہیں خدا کا ہی غضب پھر بار بار
ساتھ ہوگی جب دعا ماں باپ اور اُستاد کی
پھر تو اندیشہ نہیں لا حق کہ ہو جائیں گے خوار
حکم جب اپنے بزرگوں کا سدا ہم مان لیں
عین ممکن ہے بنیں گے ہم بھی اک دن با وقار
جا کے روضہ پر نبیؐ کے حاضری دیتا کبھی
ہے بڑی شدت سے مجھ کو اس گھڑی کا انتظار
دل میں ہے شاداؔب کے یہ آرزو ہر دم بسی
کاش کر لوں میں زیارت رب کے گھر کی ایک بار
غلام رسول شاداب
مڑواہ ،کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9103196850
منہ تو چھوٹا ہے مگر بول بڑے بولا ہے
پھر بھی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ وہ بھولا ہے
مانگنے کا عجب انداز ہے اس کا یارو
نہ تو کاسہ ہے کوئی ہاتھ میں نہ جھولا ہے
اس نے بھاشن سے کیا کتنے دلوں کو مجروح
کتنے ذہنوں میں تعصّب کا زہر گھولا ہے
وہ کھلاڑی ہے سیاست کا، مسلمان نہیں
جس نے ایمان کو کرسی کے لئے تولا ہے
کتنی مکار ہے دنیا تجھے معلوم نہیں
تو اسے اپنی سمجھتا ہے بہت بھولا ہے
پارساؤں میں ترا نام ہے شامل اب تک
میں نے دنیا پہ ترے راز کہاں کھولا ہے
ہٹ گئیں راہ سے پھر تیز ہوائیں بھی رفیق ؔ
جب بھی شاہین نے پرواز کو پر تولا ہے
رفیق عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ
BSNL آکولہ مہاراشٹر
میرے حصے میں فقط تلخی و تنہائی ہے
زندگی درد کی دہلیز پہ لے آئی ہے
عمر بھر میرے گریباں سے اُلجھتا ہی رہا
میرے دشمن میں تو بس ایک ہی اچھائی ہے
اتنی حیرت سے نہ دیکھو مری زنجیروں کو
میں نے اک جرمِ محبت کی سزا پائی ہے
تیری خوشبو سے گلابوں نے مہکنا سیکھا
تیرے چہرے سے چراغوں نے ضیاء پائی ہے
تو بھی میرا نہ ہوا، خیر کوئی بات نہیں
یہ بھی کیا کم ہے مری تجھ سے شناسائی ہے
یہ جو ساون کی گھٹائیں ہیں تمہارے گیسو
یہ جو بجلی کی کڑک ہے تری انگڑائی ہے
سردارجاویدخان
مینڈھر پونچھ،جموں
زندگی کوئی خواب ہے شاید
اس میں جینا عذاب ہے شاید
عہد و پیماں کا اعتبار نہیں
بد گماں بے حساب ہے شاید
تم سے بھی کردیا ہے ذکرِ وفا
میری عادت خراب ہے شاید
میری آنکھوں پہ دھیان مت دینا
روح میں اضطراب ہے شاید
شوخ باتوں میں بھینی خوشبو ہے
اس کا لہجہ گلاب ہے شاید
اس کی یادیں ہیں سحر خیز بہت
اور تصور عذاب ہے شاید
اس کی آنکھیں سوال ہیں نازاؔں
میرا چہرہ جواب ہے شاید
جبیں نازاؔں
لکشمی نگر ، نئی دہلی
شب نہ ہوتی لہو لہو میری
تُو جو کرتی گھُٹن رفو میری
جن دنوں میں ہر آن تھا خاموش
سب سے اچھی تھی گفتگو میری
شہرِ وحشت کی بےلباسی نے
اوڑھ رکھی ہے ہاو ہو میری
رقص کرتی ہے ہجر کی دھُن پر
شام ہوتی ہے سرخرو میری
اے دیارِ عدوئے زخمِ سفر
تُو نے دیکھی ہے جستجو میری!
دشتِ آشوب کے چراغوں میں
اک نشانی ہے چارسُو میری
خوب روتی ہے یاد کی چڑیا
بات کرکے کبھو کبھو میری
بِن مِلے سانس بھی نہیں لیتی
خستگی کو پڑی ہے خُو میری
اے نگاہِ شکستہ پارینہ
’’میں تمہارا ہوں اور تُو میری‘‘
بے دلی کی سرائے میں محمود ؔ
اُس کو اب بھی ہے آرزو میری
محمد محمودؔؔ
نجدون نی پورہ، اننت ناگ، کشمیر
بڑی رنگیں نگارِش کر رہے ہیں
غزل کہنے کی کاوِش کر رہے ہیں
جو میری خامیوں سے آشنا تھے
وہی میری ستائش کر رہے ہیں
فلک پر چاند سے ملنے کی خاطر
کئی جگنو گزارِش کر رہے ہیں
کسی کی دسترس میں جو نہیں ہے
اُسے پانے کی خواہش کر رہے ہیں
نئے گھاؤ اب قریباً بھر گئے ہیں
پرانے زخم سوزِش کر رہے ہیں
اِندرؔ سرازی
ڈوڈہ جموں کشمیر
موبائل نمبر؛7006658731
جہاں میں اتنی جو زیبائیاں ہیں
سب اس کے حسن کی رعنائیاں ہیں
برا کہتا ہے اس کو ہی زمانہ
بھری جس شخص میں اچھائیاں ہیں
کدھر جاؤں کروں کیا کچھ نہ سوجھے
کنواں آگے تو پیچھے کھائیاں ہیں
محبت آپ سب کی جو ملی ہے
یہ بس اس کی کرم فرمائیاں ہیں
جو تیرے عشق میں دنیا نے بخشیں
ہمارا فخر وہ رسوائیاں ہیں
جہاں پر وصل کی محفل تھی سجتی
اسی کمرے میں اب تنہائیاں ہیں
جدائی کی قیامت لانے والی
مجھے تو صُور یہ شہنائیاں ہیں
وہ ہر شے حسن کا مرکز بنی ہے
پڑی جس پر تری پرچھائیاں ہیں
سہیلؔ اس عام سے لہجے میں پنہاں
سمندر کی طرح گہرائیاں ہیں
سہیل ساحل
مدیر ماہنامہ اہل قلم ، لکھنئو،یوپی
میری بزم میں وہ آئے خوابوں کی طرح
جن کو حقیقت میں رکھتے تھے ہم نوابوں کی طرح
وہ تو خزاں میں بھی مسکرائے ہیں
جن کو رکھتے تھے ہم گلابوں کی طرح
پڑھتے تھے ہم کبھی ان کو الفاظ کی مانند
آج ہیں وہ بند کتابوں کی طرح
اُڑنے کی چاہت تھی جن کو فلک تلے
مگر وہ اُڑ نہ سکے عقابوں کی طرح
قادریؔ ماضی تو تیرا خزاں میں رہا
اب مستقبل تیرا ہو گا شادابوں کی طرح
فاروق احمد قادریؔ
کوٹی ڈوڈہ ، جموں
[email protected]