ریحانہ شجر
دن ڈھلنے کو تھا۔ تپتا سورج آگ اُگل کے شانت ہو رہا تھا۔ جمیل آٹو رکشا چلاتے ہوئے شہر کی سڑک پر پہنچ گیا۔ امید تھی کہ سواری مل جائے گی کیونکہ یہ شہر کا پرانا بازار تھا۔ اس بازار میں بڑی گاڑیوں کو چلنے اجازت نہیں تھی۔ لیکن ہمیشہ نجی گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی بھیڑ رہتی تھی۔ بھیڑ اتنی کہ اگر اوپر سے سوئی گرائیں، وہ دیر تک زمین پر نہ گرے۔دکانداروں نے باہر رکھے سامان سے تو ویسے ہی آدھی سے زیادہ سڑک پر ناجایز قبضہ کر رکھا تھا۔ باقی سڑک کا تو خدا ہی حافظ۔۔ ایک طرف مچھلی والیاں، کانوں میں آدھی درجن چاندی کی بالیاں (کنہ واجہ) پہنے، حقے کے لمبے کش لگا لگا کر گاہکوں کے ساتھ ٹھٹھے کئے جا رہی تھیں۔ ساتھ ہی ندرو ،پالک کے ٹھیلے لگائے بیٹھے لوگ پانی کا چھڑکاؤ کر کے ندرو اور پالک کو تر و تازہ رکھتے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد “ڈلچ ڈال، ڈلچ ڈال” گلہ پھاڑ پھاڑ کر چلاتے اور اس طرح گاہکوں کی توجہ اپنے طرف کھینچتے ۔ دوسری جانب چھابڑی فروش، ریڑھی والے، میوہ فروش، سبزی فروش، گداگر، کھلونے والے، غبارے والے، پالش والے، ستو والے، چوڑی والے، مہندی والے، اچار والے اپنے تھیلے لگایئے سکون سے بیٹھے تھے۔ ضروریات زندگی کی ہر شے اگر کہیں ہے تو یہیں اسی بازار میں دکھائی پڑتی۔
ایسے میں بائیک پر سوار اور آٹو رکشا والوں کو جدھر سے آگے نکلنے کی گنجائش نظر آتی، وہ نکلنے کی کوشش کرتے۔ پھر بھی چند قدم کی دوری پر کئی منٹوں تک اپنی گاڑی روکے رکھنی پڑتی۔ کچھ لوگ اپنی سکوٹروں اور بائیکوں پر بیٹھے ہی خریداری کر لیتے۔ تب تک ٹریفک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھتا۔
ایسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر جمیل آٹو والا بھی سواری کا منتظر دھیمی رفتار سے رکشا چلا جا رہا تھا۔ شاید کوئی ہاتھ کے اشارے سے اسے روک لے۔ ٹریفک ایسے جام ہو گیا تھا جیسے اس کی قسمت کا پہیہ ایک ہی جگہ ڈھیرا جمائے بیٹھا ہوا ،نہ اسے آگے جانے کا راستہ سجھائی دیتا نہ پیچھے مڑنے کی گنجائش تھی۔ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ملا۔ جمیل نے اپنی طرف سے کسی کام کو کرنے میں کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی۔ پھر بھی نہ جانے کیوں، جس کام میں ہاتھ ڈالا، نقصان ہی پلے پڑتا۔ پہلے ایک مقامی تاجر کے پاس سیلز مین تھا ۔ اماں کی بیماری کی وجہ سے یہ کام چھوٹ گیا۔ پھر بیوی کے زیور بیچ کر کریانے کی دکان شروع کی۔ چند مہینوں بعد ہی اسی بازار میں شہر کے ایک بڑے ریس نے آناً فاناً شاپنگ مال شروع کیا۔ دھیرے دھیرے شہر میں ہر طرف شاپنگ مالز کھل گئے۔ جمیل جیسے چھوٹے دکانداروں کی کمر ٹوٹ گئی۔ وہ اس کام میں نیا تھا، اس لئے اس کی دکان سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ کئی کئی دنوں تک دکان پر کوئی خریدار نظر ہی نہیں آتا ۔ اشیائے خوردنی کی میعاد ختم ہونے لگی اور سارا سامان ضائع ہو گیا۔ آخر تنگ آ کر اس نے دکان ہی بند کر دی۔
ابھی تک آٹو رکشا والے گھر کی گاڑی چلا رہے تھے۔ قرضہ بھی چند سالوں میں اتار لیتے تھے۔ یہ سوچ کر اس نے بھی قرضے پر آٹو رکشا لیا، اس امید سے کہ اب ضرور اس کا وقت اور بخت بدلے گا۔ جمیل نے کام تو بدل دیا پر اپنی تقدیر بدل نہ سکا۔ آٹو رکشا لانے کے کچھ مدت بعد ہی بیشتر لوگ آٹو رکشا کے بدلے کیب کو ترجیح دینے لگے۔
آج بھی پورا دن کام کرنے کے باوجود آمدنی بہت کم تھی۔ کمر توڑتی مہنگائی میں گھر کی گاڑی چلانا سیسیفس کی چٹان کو پہاڑ کی چوٹی پر پہچانے کے عمل سے کم نہیں تھا۔ حالانکہ اس نے نہ کسی انسان کو دھوکہ دیا تھا، نہ کسی دیوتا کو۔ مہینوں سے قرضے کی ادائیگی نہ کرنے پر بینک سے کئی بار نوٹس آ چکے تھے۔ اس بار بھی قسط ادا کرنا ناممکن لگ رہا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے ٹریفک پولیس چوکس ہو گئی تھی۔ معمولی غلطی پر چالان کاٹتے نظر آتے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی چالان ہو چکا تھا۔ تب سے وہ اور احتیاط برت رہا تھا۔
آکاش پر پرندے ایک ہی سمت میں اڑتے، شام ہونے کا اعلان کررہے تھے۔ یہ منظر دیکھ اس کو دن ڈھلنے کا احساس ہوا۔ جلدی سے کچھ ضرورت کی چیزیں خرید لیں۔ آٹو رکشا گھر کی طرف موڑا تو اچانک اس کی نظر چوڑی والے پر پڑی۔ جس کے سامنے لال چوڑیوں کا انبار پڑا تھا۔ چوڑی والے کا صرف سر اور کندھے نظر آ رہے تھے، باقی جسم چوڑیوں کے انبار کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ جمیل کو جیسے کسی انجانی قوت نے روک لیا۔ رکشے کو جیسے خود بخود بریک لگ گیا۔ اس نے ہاتھ میں چوڑیاں اٹھائیں۔ کانچ کی چوڑیاں دیکھ کر وہ منجمد ہو کر رہ گیا۔ اور اس رکے ہوئے سفر کی پگڈنڈی پر بیٹھ کر کچھ سال آگے نکل گیا، جہاں عروسی جوڑے میں ملبوس، لال چوڑیاں پہنے اس کی بیٹی سامنے کھڑی تھی۔
“بابا، لال چوڑیاں مجھ پر کیسی لگ رہی ہیں؟” گوری بانہوں میں سو سو چوڑیاں پہنے، مہندی بھرے ہاتھ، تتلی کی مانند اُڑتی بابا کے قریب آکر بولی۔
“ماشاء اللہ! بہت خوبصورت! لال رنگ تمہیں بچپن سے پسندیدہ رنگ رہا ہے۔۔ اتنا پسند کہ جب تم روتی تھی، تمہارے سامنے لال رنگ کا کھلونا یا لال رنگ کا رومال رکھ دیتے تو تم خوش ہو کر رونا بند کر دیتی تھں۔” وہ دولہن بیٹی کو نہارتے ہوئے کہنے لگا۔ ہاتھوں سے نظر اتار اتار کر وہ “چشم بد دور، میری لاڈو! چشم بد دور!” چلانے لگا۔
۔ “او بھائی! سامنے دیکھو! آگے بڑھو!” کسی نے پیچھے سے چیخ کر آواز دی۔
جمیل کو جھٹکا لگ گیا اور وہ مستقبل کی خیالی دنیا سے یکایک بھیڑ بھاڑ والے شہر کے بازار میں لوٹ آیا ۔ سوچوں میں گم تھا کہ وہ آٹو رکشا لے کر آگے نکل گیا۔ “میں بھی پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ابھی تو وہ معصوم چار پانچ مہینوں کی ہے۔” خود سے بڑبڑانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ “رُک! اُتر! کہاں جانا ہے؟ را نگ سائیڈ پر چلنے کا چالان ہے۔ دو ہزار روپے!” ایک پولیس والا سامنے آکھڑا ہوا۔
صاحب آپ چالان مت کاٹو ۔ میری غلطی نہیں تھی۔ اس سڑک پر تو پیدل چلنے والا بھی رانگ سائیڈ سے چل رہا ہے۔ مجھے جانے دیجیٔے۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں چالان کہاں سے ادا کروں ۔ جمیل رکشا والا صفائیاں دے رہا تھا۔
“تمہاری معافی سے چالان معاف نہیں ہوتا۔ آٹو ضبط! حوالدار کو حکم دیا۔
پولیس والے نے جمیل کو آٹو سے باہر نکالا۔
ہوا میں ڈنڈا لہراتے ہوئے ترچھی نظروں سے جمیل کی طرف دیکھ کر کہا، ” جاؤ اب منہ کیا دیکھ رہے ہو۔ جس دن چالان کے پیسے جمع کرو گے آٹو رکشا تھانے آکے لے جانا۔
جمیل شاپر ہاتھ میں پکڑے گرتے گرتے بچا۔ تھر تھر کانپ رہا تھا، جیسے اسے گہری چوٹ لگی ہو۔ ہونٹ زرد پڑ گئے تھے۔ “صاحب، ایسا مت کیجیے۔” ہاتھ جوڑ کر وہ پولیس والے سے منتیں کرنے لگا۔ لیکن بے سود۔ پولیس والے اپنا کام کر کے چلے گئے۔
جمیل آٹو والا بھیڑ کو تکتا رہ گیا۔
اس کے ساتھی آٹو والے بلو سنگھ نے، جو یہ سب دیکھ رہا تھا، قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “جمیل بھائی… حوصلہ رکھو۔ کل دیکھیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ساتھی نے دلاسا دینے کی کوشش کی۔
“حوصلہ؟” جمیل نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“دوست! میں نے کچھ نہیں کمایا۔” جمیل رکشا والا ایک ہاتھ ماتھے پر، دوسرا سینے پر رکھ کر بولا۔ “میرا تو پسینہ بھی قرضے میں ڈوبا ہے۔ دو ہزار روپے کوئی معمولی رقم تو نہیں ہوتی ہے نا! کہاں سے لاؤں؟ ۔ کمائی ہوتی نہیں، جرمانے کی رقم کیسے ادا کروں؟” دھیمی آواز میں بڑبڑا کر کہا۔ اس نے ساتھی کی طرف شاپر بڑھاتے ہوئے کہا، “یہ میرے گھر پہنچا دینا۔” ان سے کہنا مجھے لوٹنے میں دیر ہوجاے گی۔
“اس میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں ہے۔ کھول کر دیکھ لینا، دوست! یہ کہتے ہوئے جمیل کا لہجہ کمزور پڑ گیا، اور آنکھیں بند کرکے سامنے مندر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
بلو سنگھ نے ہچکچاتے ہوئے شاپر پکڑا۔ کھول کر دیکھا۔
اس میں پانچ آلو، تین پیاز، تین انڈے، ایک پاؤ دودھ کا پیکٹ تھا۔ اور یہ ننھے ہاتھوں کے لئے لال چوڑیاں۔
���
وزیر باغ، سرینگر ، کشمیر
[email protected]